menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Moscow Se Makka (19)

22 21
29.01.2026

دن میں کسی وقت میں نے اپنا سامان منتقل کر دیا تھا۔ احمد عشاء کی نماز کے بعد کمرے میں آیا تھا۔ الماری کے دروازے پہ میں نے تولیہ ٹانگا ہوا تھا۔ الماری کے پہلو میں ایک میز کے اوپر میرا بند بیگ تھا۔ پلاسٹک بیگز میں نے الماری کے اندر رکھ دیے تھے۔ احمد کا ایک چھوٹا سا بیگ تھا، جو باتھ روم کی دیوار کے ساتھ والی چھوٹی میز پر دھرا تھا۔ موصوف نے آتے ہی میرا تولیہ الماری کے دروازے سے اٹھا کر میرے بیگ کے اوپر پٹخا تھا اور کہا تھا، "الماری پہ کچھ نہیں ٹانگنا، ہمیں انگوشوں کو اسی طرح تربیت دی جاتی ہے۔ ایک جگہ رہنے والے دوسرے لوگوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے"۔ میں بستر سے اٹھا تھا۔ تولیہ بیگ کے اوپر سے اٹھا کر تہہ کیا تھا اور اپنے تکیے پر رکھتے ہوئے اس کی جانب خشمگیں نگاہوں سے دیکھا تھا۔ تھوڑی دیر میں وہ پھر بولا تھا، "تمہارا سامان کچھ زیادہ ہی نہیں ہے کیا؟" میں مسکرا دیا تھا اور سوچ رہا تھا کہ شیریں کے بعد یہ ایک اور امتحان ہوگا۔

صبح اٹھ کر میں نماز پڑھنے چلا گیا تھا۔ یہ صاحب بستر پہ پڑے تلملائے تھے۔ نماز پڑھ کر میں لابی میں موبائل پر وائی فائی استعمال کرتا تھا۔ اس سے فارغ ہو کر جب کمرے میں آیا تو جناب احمد بھنائے ہوئے بیٹھے تھے۔ شکوے کا سیلاب آ گیا تھا۔ "میں اسی لیے دوسرے کمرے سے یہاں منتقل ہوا تھا کہ وہاں چار آدمی خراٹے بھرتے تھے۔ میں منٰی میں قیام کے دوران سو ہی نہیں سکا ہوں۔ آج رات تم نے نیند غارت کر دی۔ دائیں جانب کی کروٹ پہ خراٹے نہیں لیتے تھے لیکن بائیں جانب کی کروٹ پرخراٹے تو لیتے ہی ہو لیکن میرے شوروغل پہ اٹھے تک نہیں"۔ میں بڑا پریشان ہوگیا تھا، مجھے لگا تھا جیسے میں دنیا کا واحد انسان ہوں جو خراٹے لیتا ہے۔ ویسے یہ اللہ کا کرم تھا کہ کسی کے خراٹے لینے سے مجھے نیند نہیں آتی اور اب میں سو رہا تھا اور لوگ میرے خراٹوں کی مذمت کر رہے تھے۔ ہمارا دوسرا ساتھی علی رات کو کہیں گیا تھا اور پھر آیا ہی نہیں تھا۔ شام تک احمد سے دوستی ہوگئی تھی۔ وہ بے حد امیر شخص تھا۔ ہمیشہ اداروں کا سربراہ رہا۔ اب نوووسبرسک میں اس کی اپنی ایک بڑی کنسٹرکشن کمپنی ہے۔ اس کو بالادستی جتانے کی عادت تھی ویسے وہ اچھا آدمی تھا۔ چند روز میں پتہ چل گیا کہ وہ پڑھتا بھی بہت ہے۔

مجھے آج پھر عمرہ کرنا تھا۔ ماگومید سے کہا تھا تو اس........

© Daily Urdu