Mushkil Waqt Mein Kya Karen?
مشکل وقت میں کیا کریں؟
زندگی کبھی ہموار سڑک کی طرح سیدھی نہیں چلتی۔ کبھی حالات کی دھوپ اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ انسان کے وجود کی نمی تک خشک ہونے لگتی ہے اور کبھی غم کی بارش مسلسل برستی رہتی ہے۔ مشکل وقت دراصل انسان کی شخصیت کا امتحان ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کے اندر چُھپا ہوا حوصلہ جاگتا ہے یا وہ مایوسی کی دلدل میں اُتر جاتا ہے۔ دُنیا میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو جس نے تکلیف، شکست، محرومی یا تنہائی نہ دیکھی ہو۔ انسان زندگی میں کسی نہ کسی موڑ پر اندھیروں سے گزرتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اندھیروں کو اپنی قسمت سمجھ لیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ انہی اندھیروں میں روشنی تلاش کر لیتے ہیں۔
مشکل وقت میں سب سے پہلی ضرورت صبر کی ہوتی ہے۔ صبر وہ چراغ ہے جو طوفان میں بھی حوصلہ بجھنے نہیں دیتا۔ حضرت علیؓ کا قول ہے: "صبر دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جسے انسان پسند نہیں کرتا مگر برداشت کرتا ہے اور دوسرا وہ جس پر انسان اللہ کی رضا کے لیے قائم رہتا ہے"۔ یہی صبر انسان کو ٹوٹنے نہیں دیتا۔ جب حالات انسان کے خلاف ہو جائیں تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ جیسے رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے ویسے ہی مشکلات کے بعد آسانی بھی آتی ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے: "بے شک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے"۔ یہ آیت انسان کے دل میں اُمید کا چراغ روشن رکھتی ہے۔
مشکل وقت میں انسان کو سب سے زیادہ اپنے ذہن کو سنبھالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اکثر لوگ مصیبت آتے ہی گھبرا جاتے ہیں۔ وہ مسئلے کو اتنا بڑا بنا لیتے ہیں کہ ان کے اندر لڑنے کی طاقت باقی نہیں رہتی۔ حقیقت یہ ہے کہ آدھا مسئلہ انسان کے خوف میں چھپا ہوتا ہے۔ اگر انسان دل مضبوط کر لے تو بڑی سے بڑی مشکل بھی چھوٹی محسوس........
