menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Logon Se Pyar Karen

29 0
09.05.2026

انسان اس دُنیا میں اکیلا نہیں آیا۔ وہ رشتوں، محبتوں، احساس اور تعلقات کے حسین دھاگوں میں بندھا ہوا پیدا ہوتا ہے۔ ماں کی گود سے گور تک انسان کو انسان کی ضرورت رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبت انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ جس دل میں محبت نہ ہو وہ بنجر زمین کی مانند ہوتا ہے جہاں نہ خوشیوں کے پھول کِھلتے ہیں اور نہ سکون کی فصل اُگتی ہے۔ بدقسمتی سے اکیسویں صدی میں محبت کی جگہ نفرت، بے حِسی، خود غرضی اور مفاد پرستی نے لے لی ہے۔ لوگ چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھتے ہیں مگر دلوں میں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہر شخص اپنی ذات کے خول میں قید ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسانوں کا ہجوم تو موجود ہے مگر انسانیت کہیں راستہ بھول گئی ہے۔

آج کا انسان چاند پر پہنچ گیا مگر اپنے ہی گھر کے صحن میں بیٹھے ہوئے اُداس انسان کے دل تک نہ پہنچ سکا۔ مادی ترقی نے آسائشیں تو بڑھا دیں مگر سُکون چھین لیا۔ سوشل میڈیا نے دُنیا کو گلوبل ولیج بنا دیا لیکن دلوں کے درمیان دیواریں بھی کھڑی کر دیں۔ اب لوگ ایک دوسرے سے ملنے کی بجائے صرف سکرینوں سے بات کرتے ہیں۔ رشتے تصویروں میں قید ہو گئے ہیں اور جذبات ایموجیز کے محتاج بن چکے ہیں۔ لوگ ہزاروں دوستوں کی فہرست رکھتے ہیں مگر دُکھ کی گھڑی میں کندھا دینے والا کوئی نہیں........

© Daily Urdu