Hazrat Shah Waliullah Aur Mabaad Muslim Muashra
حضرت شاہ ولی اللہؒ اور مابعد مسلم معاشرہ
میں اپنی ایک سابقہ تحریر میں عرض کر چکا ہوں کہ برصغیر کی ملی تاریخ میں، حضرت شاہ ولی اللہؒ کی حیثیت ماقبل استعمار و مابعد استعمار عہد کے درمیان ایک برزخ کی ہے۔ انھوں نے ہماری دینی اور علمی روایت کے ہر شعبے میں دینی اور تحقیقی کام کیا۔ حضرت شاہ صاحب کا پورا فکر و عمل، ان کے اپنے ہی خاندان میں ثمر آور ہوا اور ان کے پوتے مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے ہاں مکمل طور پر canonize ہو کر یہ فکر و عمل ایک مکمل تشکیل اور استناد حاصل کر لیتا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے مطالعۂ حدیث شریف میں نئے اصول وضع کیے اور تفسیر میں بھی اصول کو متعارف کرایا۔
گزشتہ دو سو سالہ تاریخ میں ہمارے غیربریلوی اہلِ علم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ حضرت شاہ صاحب کی فکرکے سب سے بڑے، مستند اور مضبوط نمائندے مولانا شاہ اسماعیل دہلوی ہیں۔ میں اس ضمن میں مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریر کا حوالہ بھی دے چکا ہوں کہ اگر حضرت شاہ ولی اللہؒ زندہ ہوتے تو وہ بھی مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے جھنڈے تلے ہوتے۔ بڑے شاہ صاحب حدیث شریف اور تفسیر کے علاوہ، برصغیر میں اصولِ دین، اصولِ فقہ، سلوک اور عرفان کی بڑی روایتوں کے بھی وارث تھے۔ ان چار شعبوں میں، ان کی فکر مولانا شاہ اسماعیل دہلوی تک پہنچ کر مکمل طور پر canonize ہو جاتی ہے۔
ان شعبوں کی اہمیت کے پیش نظر ہی مولانا شاہ اسماعیل دہلوی نے ان چار شعبوں میں چار بڑی اور نتیجہ خیز کتابیں لکھیں جو ہماری مابعد علمی روایت کا نقطۂ آغاز ثابت ہوئیں۔ بیسویں صدی کے آغاز میں نظامِ استعمار کے زیر سایہ جس قومی سیاست کا آغاز ہوا، اس میں مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے فکر و عمل نے ہی مذہبی سیاست کو جواز فراہم کیا۔ اس میں کوئی دو رائیں نہیں ہو سکتیں کہ ان چار بڑی روایتوں میں مولانا شاہ اسماعیل دہلوی کے اثرات غیرمعمولی رہے اور ایک بالکل ہی نئی علمی روایت کا آغاز ہوا جس کا ماقبل استعمار علمی اور تہذیبی روایت سے کوئی تعلق سرے سے ہی قائم نہیں کیا جا سکتا۔
(1) اصولِ دین کی روایت بڑے شاہ صاحب کے بعد علیٰ حالہ باقی نہیں رہ سکی۔ مسلم معاشروں........
