menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ana Ki Chakki Mein Pistay Masoom Rishte

37 0
02.10.2026

انا کی چکی میں پستے معصوم رشتے

عدالت کے کمرے سے باہر نکلتی ہوئی دہلیز، قانون کا وہ بے رحم کٹہرا اور وہاں بکھری ہوئی بے بسی کی وہ داستان کہ جسے دیکھ کر پتھر دل بھی موم ہو جائیں۔ فیصلے کی گھڑی آ چکی تھی۔

عدالت کا قلم اپنی پوری سرد مہری کے ساتھ یہ لکھ چکا تھا کہ اس پھول جیسے معصوم بچے کی پرورش کا حق ماں کو ملتا ہے اور قانون کے اسی اندھے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے ماں اپنے ہی جگر کے ٹکڑے کو باپ کے ہاتھوں سے وصول کرنے آگے بڑھتی ہے۔ لیکن ماں کی یہ جیت دراصل اس کی سب سے بڑی ہار بن جاتی ہے، جب وہ دیکھتی ہے کہ اس کا اپنا بچہ، جس کے لیے وہ اتنے طویل مقدمات اور کچہریوں کے چکر کاٹ چکی تھی، اسے اپنانے کو تیار نہیں۔

​بچے کو جب ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کیا جانے لگتا ہے، تو اس کی دنیا جیسے اجڑ جاتی ہے۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ عدالتیں کیا ہوتی ہیں، دفعات کیا ہیں اور فیملی........

© Daily Urdu