menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mehangai Mein Dam Torti Zindagi

33 175
22.02.2026

مہنگائی میں دم توڑتی زندگی

کہتے ہیں انسان بھوک سے نہیں مرتا، مایوسی سے مرتا ہے اور آج کا پاکستانی بھوک سے زیادہ مایوس ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں روٹی جتنی مہنگی ہوئی ہے، امید اتنی ہی سستی ہوگئی ہے۔ کبھی کہا جاتا تھا کہ "مشکل وقت ہے، گزر جائے گا"، مگر اب لوگ کہتے ہیں "یہ وقت نہیں، قیامت ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہی"۔

مہنگائی نے زندگی کا مفہوم ہی بدل دیا ہے۔ پہلے لوگ کماتے تھے تاکہ جئیں، اب لوگ جیتے ہیں تاکہ کمائیں۔ آٹا، چینی، گھی، دال، بجلی، گیس سب دشمن بن چکے ہیں۔ بازار میں چیزوں کے دام سن کر لگتا ہے جیسے دکاندار نرخ نہیں بتا رہا، سزا سنا رہا ہے۔ عوام تنگ آچکی ہے، مگر حکمران شاید اب بھی آنکھوں پر غفلت کی پٹی باندھے بیٹھے ہیں۔ میں کل لاہور کے نشتر بازار میں ایک دکاندار سے بات کر رہا تھا۔ کہنے لگا، "صاحب، اب تو لوگ خریداری نہیں کرتے، صرف پوچھنے آتے ہیں۔ قیمت سن کر مسکرا دیتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں"۔ اس کی مسکراہٹ کے پیچھے ایک بے بسی چھپی تھی، جو شاید آج ہر شہری کے چہرے کا تاثر بن چکی ہے۔ افراطِ زر کی شرح کاغذوں میں 28 فیصد لکھی ہے، مگر حقیقت میں یہ لوگوں کی........

© Daily Urdu