Complex Ka Shikar Muashra Aur Taleem Yafta Aurat
کمپلیس کا شکار معاشرہ اور تعلیم یافتہ عورت
قلم جب عورت کے ہاتھ میں آتا ہے تو وہ صرف الفاظ نہیں لکھتی، بلکہ نسلوں کی تقدیر رقم کرتی ہے۔ تعلیم عورت کو محض ڈگری نہیں دیتی بلکہ شعور، اعتماد، شناخت اور اپنے وجود کا ادراک عطا کرتی ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے کا ایک حصہ آج بھی تعلیم یافتہ عورت کو مکمل طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک پڑھی لکھی، باصلاحیت اور خود اعتماد عورت کو اکثر تنقید، مخالفت، کردار کشی اور بعض اوقات تشدد تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ اصل مسئلہ عورت کی تعلیم نہیں بلکہ وہ فرسودہ سوچ ہے جو عورت کو محدود دائروں میں قید دیکھنے کی عادی ہو چکی ہے۔ یہ ذہنیت عورت کو اس وقت تک قبول کرتی ہے جب تک وہ خاموش رہے، سوال نہ کرے اور اپنی رائے کا اظہار نہ کرے۔ لیکن جیسے ہی تعلیم اس کے اندر شعور، خوداعتمادی اور فکری آزادی پیدا کرتی ہے، بعض لوگ اسے اپنی روایتی بالادستی کے لیے خطرہ سمجھنے لگتے ہیں۔
تعلیم یافتہ عورت سے خوف اس بات کا نہیں کہ وہ پڑھی لکھی ہے، بلکہ اس بات کا ہے کہ........
