menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Wadi e Astor Ki Sair

10 0
latest

6 ستمبر کی رات 9 بجے ہم لاہور سے وادئی استور کے سفر پر روانا ہوئے۔ صبح کے وقت ہم ایبٹ آباد پہنچے، وہاں ناشتہ کیا اس کے بعد مانسہرہ، بالا کوٹ اور ناران سے گزرتے ہوئے ہم بوراوائی پہنچے، جہاں ہم نے رات کو قیام کیا۔ بورا وائی میں international D H hotel میں ٹھہرے۔

اس وقت ہوٹل کی بالکنی میں بیٹھی ہوئی خوبصورت منظر، سرسبز پہاڑ دیکھ رہی ہوں، انسان اس کائنات کے حسن میں کھو جاتا ہے اس نے اتنی خوبصورت کائنات بنائی اور اس کا حسن دیکھ کر انسان سب کچھ بھول جاتا ہے شاید اپنا آپ بھی۔

دنیا کے فکر و غم سے کچھ عرصے کے لئے بالکل آزاد، اس قدرتی حسن کو دیکھے جاتا ہے۔ اللہ نے، سیرو فی الارض، کا زکر کیا ہے کہ زمین میں چلو پھرو اور کائنات بنانے والے کی قدرت کو دیکھو۔

پہاڑوں پر جمی برف بے حد خوبصورت لگ رہی ہے اور نیلے نیلے آسمان پر خوب صورت سفید بادل بہت خوب صورت منظر پیش کر رہے ہیں اور بالکنی میں بیٹھے ہوئے میری نظر اس منظر سے ہٹ نہیں رہی اور مجھے محسوس ہی نہیں ہو رہا کہ ہم رات بھر جاگے ہوئے تھکے ہوئے ہیں۔ اس خوب صورتی نے طویل سفر کی تھکان کو ختم کر دیا۔ ہم دوپہر تین بجے کے قریب بوراوائی پہنچے تھے، ہم آہستہ آہستہ چشموں پر رک رک کر کائنات بنانے والے کی قدرت کو دیکھ دیکھ کر اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔

ناران سے گزرتے ہوئے عمیر بھائی نے ناران کے متعلق بتایا کہ کبھی ناران الگ ہی ہوا کرتا تھا، شہر میں داخل ہونے سے پہلے کئی بڑے گلئیشر راستہ کاٹتے تھے، برفانی پانی سڑک پر بہتا تھا اور گاڑیوں کو اختیاط سے ان پانیوں سے گزرنا پڑتا تھا۔ آج ان میں سے بیشتر گلئیشر یا تو بہت سکڑ چکے میں یا تقریباََ ختم ہو چکے ہیں، پانی کی وہ قدرتی گزر گاہیں بھی اب ماضی کا حصہ بنتئی جا رہی ہیں، یہ منظر موسمیاتی تبدیلی کا واضح پیغام دیتا ہے۔

اس ناران بازار کا کبھی ایک ہی راستہ ہوا کرتا تھا مگر اب بائی پاس بن چکا ہے، اس کے باوجود سیاحوں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ رش کم ہونے کے بجائے زیادہ ہوگیا ہے۔

شہر سے آگے جھیل سیف الملوک کے راستے پر اب دونوں طرف بڑے بڑے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز تعمیر ہو چکے ہیں۔ بعض مقامات پر ایسے ہوٹل بھی موجود ہیں جن کا کرایہ ایک رات کا پچاس ہزار روپے یا اس سے بھی زیادہ ہے۔

کبھی جھیل سیف الملوک کی طرف جانے والا راستہ ایک کچی پگڈنڈی ہوا کرتا تھا، آج وہ راستہ پختہ سڑک میں بدل چکا ہے۔ عمیر بھائی نے مزید بتایا کہ سیاحت کے بڑھنے سے ناران میں کچرے کے ڈھیر میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

ہم نے ناران قیام کرنے کی بجائے بٹہ کنڈی کا رخ کیا۔ اگر ہم نے مناسب منصوبہ بندی نہ کی تو ہماری طرح سیاح بھی نئی منزل تلاش کر لیں گئے۔

بوراوائی میں ہمیں رہائش بہت اچھی ملی۔ شمالی علاقہ جات میں اگر آپ مئی، جون، جولائی میں جائیں تو رہائش ملنے میں دشواریاں پیش آتی ہیں کیونکہ رہائش بہت مہنگی ہوتی ہے، لیکن شکر ہے کہ ہمیں اپنی پہلی رہائش بہت اچھی ملی۔ مقصد اگر قدرت کے حسن کو دیکھنا ہو تو سفر کی تکالیف کو خوش دلی سے برداشت کر لیا جاتا ہے۔

ابھی ابھی میں فاطمہ کے ساتھ باہر کا چکر لگا کر آئی کیونکہ سفر میں شاید بھوک زیادہ لگتی ہے اس لئے ہم پکوڑوں کی تلاش میں نکلے تو عمیر بھائی نے فاطمہ کو گاڑی دے دی کہ وہ گاڑی ڈرائیو کرے، میں اس لئے ڈر رہی تھی کے سڑک کے........

© Daily Urdu