Super Powers Ke Naye Maidan Aur Hum
سپر پاورز کے نئے میدان اور ہم
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ کے بعد جنگ بندی تو ہوگئی لیکن مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہیں۔ ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات اور ترکی بہ ترکی جواب کے ماحول میں جنگ بندی بے یقینی کے پائیدان پر اٹکی ہوئی ہے۔
ہمسایہ اور ثالث ممالک کوشش میں ہیں کہ جوش کے جھکڑ رکیں اور ہوش کے جھونکے کو موقع مل سکے۔ دیکھتے ہیں کہ خانہ براندازان چمن کامیاب ہوتے ہیں یا صلح کے سفیر۔
روس اور یوکرین کی جنگ کو چار سال ہو چکے اور جنگ بندی کے آثار دور دور تک نہیں۔ امریکا کے بار بار اصرار پر نیٹو ممبر ممالک نے اپنے دفاعی اخراجات میں غیرمعمولی اضافے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع کر دیا۔
دوسری جانب امریکا اور چین کے درمیان معاشی اور عالمی سیکیورٹی غلبے کا مقابلہ اب محض تجارت تک محدود نہیں رہا بلکہ مقابلے کا نیا میدان سیمی کنڈکٹرز، نایاب معدنیات، سپلائی چین، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی تک پھیل چکا ہے۔ ساؤتھ چائنا سمندر سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک دنیا کے حساس خطے ایک نئی عالمی صف بندی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ بظاہر یہ سب الگ الگ واقعات ہیں لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟
ہر تنازعے کی اپنی تاریخ، اپنی سیاسی وجوہات اور اپنی علاقائی حقیقت ہے لیکن بعض اوقات مختلف واقعات ایک وسیع تر تاریخی رجحان کی مختلف شکلوں میں ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ طاقت، وسائل، معیشت اور جغرافیہ ایک دوسرے سے الگ نہیں چلتے۔
ریاستیں اپنی سلامتی، معاشی مفادات اور عالمی اثر و رسوخ کو ایک ہی حکمت عملی کے مختلف پہلوؤں کے طور پر دیکھتی ہیں۔ اسی لیے موجودہ عالمی منظرنامے کو سفارت کاری اور عسکری حرکیات کے ساتھ ساتھ مسقبل سے جڑے معاشی........
