menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Corruption: Guman Aur Haqiqat

15 22
08.02.2026

ہمارے ہاں کرپشن کے بارے میں گفتگو عموماً ایک طے شدہ نتیجے کے ساتھ شروع اور وہیں ختم بھی ہو جاتی ہے، یعنی یہ کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، کرپشن کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں، کرپشن میں ہم عالم میں اعلیٰ ترین مقام رکھتے ہیں جس کی گواہی کرپشن پرسیپشن انڈکس کی سالانہ رپورٹ بھی دیتی ہے۔

ایسی عالمی درجہ بندیاں، سیاسی بیانات اور میڈیا سرخیاں مل ملا کر اس طے شدہ نتیجے کو پتھر کی لکیر بنا دیتے ہیں کہ گویا تمام حکومتی ادارے اور نظام مکمل طور پر بدعنوانی کی گرفت میں ہے۔

اس طے شدہ نتیجے سے اختلاف کی گنجائش ہے لیکن چند معروف عالمی رپورٹوں اور سیاسی دشنام طرازیوں کے تلخ ماحول میں متبادل حقیقت کا بیان اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

تاہم ایک معروف عالمی ریسرچ ادارے IPSOS نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے اشتراک سے گمان یعنی پرسیپشن کی بجائے عملی طور پر کرپشن سے واسطہ پڑنے کو بنیاد بنا کر ایک متبادل اور مقامی انڈکس ترتیب دینے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

رواں ہفتے شائع ہونے والی Index of Transparency & Accountability in Pakistan (ITAP) رپورٹ اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد اور غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ بدعنوانی کو محض ایک عمومی الزام یا گمان کے طور پر نہیں بلکہ شہریوں کے عملی تجربے کو بنیاد بنا کر نتائج اخذ کرنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔

اس رپورٹ کے لیے کیے گئے سروے کے مختلف مراحل اور پیشہ ورانہ طریقہ کار پر استوار نتائج متبادل حقیقت بیان کرتے ہیں۔ دسمبر 2025 سے جنوری 2026 کے دوران ملک کے 82 اضلاع میں، شہری اور دیہی آبادی کی نمائندگی کے ساتھ، چھ ہزار........

© Daily Urdu