La Parwahi Ka Culture
سرحدی علاقہ سے ملحقہ غریبوں کی بستی میں ایک غریب کی چھت کیا گری کہ اس کے مکینوں کے خواب بکھر گئے، انہیں کیا معلوم تھا کہ وہ اپنے پیارے بچوں کو آخری بار گھر میں قائم نجی اکیڈیمی بھیج رہے ہیں، یہ بچے انکے خاندان کا ہی نہیں پاکستان کا بھی مستقبل تھے، اپنی غربت کا خاتمہ انہیں بچوں کی تعلیم میں نظر آرہا تھا، والدین سمجھتے تھے، کہ بغیر سرمایہ کاری کے نیم متوسط طبقہ میں خوشحالی کا واحد راستہ خاندان کو تعلیم سے آراستہ کرناہے، مگر چھت کے ملبہ کے نیچے ان کی خواہشات اور آرزوئیں بچوں کی موت کی صورت میں پڑیں تھیں۔
کاہنہ میں ایسا دل خراش سانحہ جس سے ہر آنکھ اشک بار تھی، اس آبادی میں دس سے زائد بچوں اور بچیوں کے جنازے ایک ساتھ اٹھے تویہ قیامت کا منظر تھا، ان معصوموں نے تو ابھی زندگی کی کئی بہاریں دیکھنا تھیں، مگر زندگی نے مہلت نہ دی، انسانوں کی غفلت نے انکی زندگی چھین لی، تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ لاپرواہی کے اس کلچر کی نذر یہ بچے ہو گئے، جس کا مظاہرہ ہمارے ہاں ہر لمحہ اور سو ہوتا ہے۔
نہیں معلوم کاہنہ کی اس معلمہ کی نظر سے ڈیرہ غازی خان کے پرائیویٹ سکول میں چھت گرنے سے چار بچوں کی ہلاکت کی خبر گزری تھی یا نہیں، قریباً دوماہ قبل اسی نوعیت کا واقعہ پیش آیا تھا، دوسری منزل پر اضافی تعمیراتی سامان کی وجہ سے کمزور چھت اور لوڈ ہوگئی، بوسیدہ چھت مگر بوجھ برداشت نہ کرسکی اور پہلی منزل کے کلاس روم پر آگری نتیجہ بچوں کی ہلاکت کی صورت میں نکلا جو کمرہ میں زیر تعلیم تھے، اسی سے ملتا جلتا سانحہ کاہنہ میں پیش آیا چھت کی........
