menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Peter Tim Das Din Kahan Ghaib Rahe

54 0
24.05.2026

پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ تھا، پرچے میں دس سوال تھے، نو سوال میڈیکل سائنس، طبی سہولتوں اور مریضوں کی نگہداشت سے تعلق رکھتے تھے جب کہ آخری سوال نرسنگ سکول کی سویپر کے بارے میں تھا۔ ایگزامینرز نے زیرتربیت فی میل اور میل نرسوں سے پوچھا تھا "آپ سکول کے کوریڈور صاف کرنے والی سویپر کانام لکھیں" طالب علم یہ سوال پڑھ کر حیران رہ گئے۔ یہ میڈیکل کا پرچہ تھا اور میڈیکل کے پرچے میں اس قسم کا سوال بے تکا اور غیر ضروری دکھائی دیتا تھا۔

کمرہ امتحان میں ایک طالب علم نے ہاتھ اٹھایا، ایگزامینر نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا کر پوچھا "یس" طالب علم نے پوچھا "کیا آخری سوال کے نمبر دوسرے سوالوں کے برابر ہیں " ایگزامینر نے ہاں میں سر ہلایا اور پر جوش لہجے میں جواب دیا "سو فیصد" طالب علم مزید حیران رہ گئے۔ یہ نوجوان جوں جوں دسویں سوال کی طرف بڑھ رہے تھے انہیں اسی قدر بے چینی محسوس ہو رہی تھی، یہ چار سال سے اس سکول میں پڑھ رہے تھے، ان چار برسوں میں ہر طالب علم نے اس سویپر کو دن میں اوسطاً چار پانچ مرتبہ دیکھا تھا لیکن کسی نے اس کا نام جاننے کی کوشش نہیں کی، یہ لوگ صبح سکول آتے تھے تو خاتون سویپر وائپر سے کوریڈورصاف کر رہی ہوتی تھی، یہ لوگ کلاس روم سے لیبارٹری آتے تھے تو یہ خاتون کو اسے لیبارٹری کے شیشے صاف کرتے دیکھتے تھے، دوپہر کی لنچ بریک کے دوران یہ خاتون سکول کا لان صاف کرتی دکھائی دیتی تھی اور سہ پہر کو جب طالب علم ہاسٹل کی طرف روانہ ہوتے تھے تو یہ ڈسٹ بن کی صفائی میں مصروف ہوتی تھی۔

آندھی ہو، طوفان ہو، بارش ہو، گرمی ہو یاپھر سردی ان طالب علموں نے اس خاتون کو ہمیشہ کیمپس میں کام کرتے دیکھا لیکن کوئی طالب علم کبھی اس خاتون کے پاس نہیں رکا، کسی نے اس سے ہاتھ نہیں ملایا اور کسی نے اس کا نام جاننے کا تکلف نہیں کیا۔ یہ رویہ صرف اس خاتون سویپر تک محدود نہیں، ہم سب لوگ اسی "مائینڈ سیٹ" کے مالک ہیں، ہم کبھی........

© Daily Urdu