Muhammad Boota Anjum
محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا، والد کا شت کار تھا، گائوں میں صرف پرائمری سکول تھا، محمد بوٹا نے پانچویں پاس کر لی تو تعلیم کا سلسلہ ختم ہوگیا اور کھیتوں میں کام شروع ہوگیا، یہ ہل جوتتا تھا، فصلوں کو پانی لگاتا تھا، گوڈی کرتا تھا اور فصل پکنے پر کٹائی بھی کرتا تھا، پرائمری سکول کے ہیڈ ماسٹر عبدالمجید اس کی صلاحیتوں سے واقف تھے، وہ اس کے والد کے پاس آئے اور انہیں سمجھایا، چودھری یہ تمہارا اکلوتا بیٹا ہے، باصلاحیت ہے، اللہ کا واسطہ ہے اسے آگے پڑھنے دو۔
اس زمانے میں ہائی سکول کی فیس تین روپے ہوتی تھی، والد کے لیے یہ بھی مشکل تھی، بہرحال استاد کی عزت ہوتی تھی چناں چہ ہیڈماسٹر کی سفارش پر بوٹا صاحب کو میاں چنوں میں داخل کرا دیا گیا، اسے صرف آٹھویں جماعت تک پڑھنے کی اجازت ملی تھی، اس زمانے میں انگریزی زبان چھٹی جماعت سے شروع ہوتی تھی، محمد بوٹا نے چھٹی جماعت میں اے بی سی سیکھی اور انگریزی زبان سے لگائو پیدا ہوگیا۔
والد گھر چلانے کے لیے گرمیوں میں صادق آباد میں ٹھیکے پر آم کے باغ لیتے تھے، یہ گرمیوں کی چھٹیوں میں والد کے ساتھ صادق آباد جاتا تھا، ٹوٹے پھوٹے ڈیروں میں رہتا تھا اور والد کے ساتھ مل کر آم توڑتا اور منڈی میں بیچتا تھا اور سہ پہر کے بعد آم کے درختوں کے نیچے بیٹھ کر پڑھتا تھا، آٹھویں جماعت میں اس کی دوسری پوزیشن آ گئی اور اسے 16 روپے وظیفہ مل گیا، ہیڈماسٹر عبدالمجید دوبارہ اس کے والد کے پاس آئے اور انہیں سمجھایا آپ کا بیٹا اب اپنے تعلیمی اخراجات خود اٹھا سکتا ہے، اسے 16 روپے ماہانہ ملیں گے، میں ہیڈ ماسٹر سے بات کرکے اسے بورڈنگ ہائوس میں رکھوا دوں گا جس کے بعد یہ وظیفہ 32 روپے ہو جائے گا، تم اسے میٹرک تک تعلیم کی اجازت دے دو۔
والد اس مرتبہ بھی ہیڈماسٹر کو انکار نہیں کر سکے یوں محمد بوٹا کو میٹرک تک تعلیم کی اجازت مل گئی، محمد بوٹا کے اب تین کام ہوتے تھے، 32 روپے میں گزارہ کرنا، دن رات پڑھتے رہنا اور چھٹیوں میں والد کے ساتھ آم توڑ کر بیچنا، بوٹا صاحب کو رات کے وقت پڑھنے کا موقع ملتا تھا، گھر میں بجلی نہیں تھی لہٰذا یہ لالٹین کی مدہم روشنی میں پڑھتے تھے، گائوں کے وسطی چوک میں بجلی کے کھمبے پر چھوٹا سا مرکری بلب بھی تھا، یہ خوف ناک گرمیوں میں ہزاروں پتنگوں کی بارش میں قمیض اتار کر اس بلب کے نیچے بھی پڑھتے تھے، انہیں مشورہ دینے والا کوئی نہیں تھا لہٰذایہ نویں جماعت میں غلطی سے سائنس کی بجائے آرٹس رکھ بیٹھے، یہ اس حماقت پر طویل عرصہ تک پچھتاتے رہے۔
بہرحال میٹرک میں بھی انہوں نے سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی، وظیفہ ملا اور یہ انٹرمیڈیٹ کالج میں داخل ہو گئے، وظیفہ کم تھا اور اخراجات زیادہ لہٰذا یہ تعلیم کے ساتھ ساتھ میاں چنوں کی لائبریری میں دس روپے ماہانہ پر پارٹ ٹائم ملازم ہو گئے، یہ اب روزانہ فجر کے........
