Muhabbat Ta Abad
وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا، وہ کس کے گلے کا ہار رہا، کس کس نے اسے محبت کی نشانی بنایا، کس نے اسے چوم کر کس کے گلے میں لٹکایا اور وہ کس کس کے گلے میں لٹک لٹک کر کس کس کے دل پر دستک دیتا رہا یہ کہانی کوئی نہیں جانتا لیکن پھر وہ ہندوستان کی خوب صورت ترین ملکہ نور جہاں تک پہنچا اور ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا۔
نور جہاں کا اصل نام مہرالنساء تھا، وہ ایرانی تھی، قندہار میں پیدا ہوئی، والدین کے ساتھ ہندوستان آئی اور اکبراعظم کے کمان دار علی قلی استجلو کے دل کی دھڑکن بن گئی، اس کے بطن سے علی قلی کی بیٹی بھی تھی، علی قلی کی ازدواجی زندگی شان دار چل رہی تھی لیکن پھر اس سے ایک غلطی ہوگئی اور اس غلطی نے اس کا پورا گھر برباد کر دیا، وہ ولی عہد شہزادہ محمد سلیم عرف جہانگیر کے ساتھ میور کی جنگ میں شریک تھا، شہزادہ لشکرکے ساتھ گھنے جنگلوں سے گزر رہا تھا اچانک سامنے سے ببرشیر آگیا، شہزادہ اس وقت خمار میں تھا، وہ بس شیر کا لقمہ بن رہا تھا کہ علی قلی نے گھوڑے سے چھلانگ لگا دی اور شہزادے اور شیر کے درمیان حائل ہوگیا۔
علی قلی اور شیر میں خوف ناک لڑائی ہوئی یہاں تک کہ ہندوستان کا سپاہی جیت اور جنگل کا بادشاہ ہار گیا، علی قلی زخمی شہزادے کو اپنے خیمے میں لے آیا جہاں اس کی بیوی مہرالنساء نے دل و جان سے اس کی خدمت کی، شہزادہ دل پھینک تھا، وہ انیس مرتبہ اپنے دل کی دھڑکنیں مختلف عورتوں کے پائوں میں بچھا چکا تھا لیکن اس کے باوجود اس کی محبت کی پیاس نہیں بجھ پا رہی تھی، وہ مہرالنساء کا بھی عاشق ہوگیا، مہرالنساء ذہین اور دور اندیش عورت تھی، اس نے چند دن کی رفاقت میں ہندوستان کے تخت کو اپنی منزل بنا لیااور یوں دونوں کی محبت پروان چڑھنے لگی۔
اکبر اعظم نے ولی عہد کی جان بچانے کے انعام میں علی قلی خان کو شیرافگن کا خطاب دیا اور اسے بنگال کا گورنر بنا دیا، شیرافگن عملاً جہانگیر کا محسن تھا لیکن محبت کہاں کسی کا احسان مانتی ہے، جہانگیر کی محبت نے بھی شیرافگن کو محسن ماننے سے انکار کر دیا، جہانگیر 1605ء میں اکبر کی وفات کے بعد ہندوستان کا بادشاہ بن گیا اور اس نے تخت سنبھالتے ہی شیرافگن کو باغی ڈکلیئر کیا، بنگال کے لیے نئے گورنر قطب الدین کوکا کو نامزد کیا اور نئے گورنر نے پرانے گورنر کو قتل کر دیا اور یوں مہرالنساء بیوہ ہوگئی جس کے بعد بادشاہ نے اس سے شادی کر لی اور وہ اپنی بیٹی لاڈلی بیگم کے ساتھ محل میں شفٹ ہوگئی، بادشاہ نے اسے مہرالنساء سے نور جہاں بنا دیا، وہ جہانگیر کی بیسویں بیگم تھی لیکن ذہنی طور پر بے انتہا تگڑی تھی چناں چہ اس نے چند ہی دنوں میں بادشاہ کو اپنے پلو کے ساتھ باندھ لیا۔
نور جہاں کی پہلے خاوند سے بے وفائی اپنی جگہ،........
