Mazhbi Jang (2)
بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے کو یروشلم سے نکال دیا، اس کی وجہ ان کی معاشی بدمعاشی تھی، یہ لوگ سود خور تھے، انہوں نے چند برسوں میں پورے اکنامک سسٹم کو یرغمال بنا لیا تھا اور بنی اسرائیل کے باقی دس قبائل ان کے باج گزار ہو گئے تھے لہٰذا ایک دن دس قبیلے اکٹھے ہوئے اور بنو یہودا کو یروشلم سے نکال دیا، یہ لوگ اس کے بعد دریائے اردن کے مغربی کنارے پر آباد ہو گئے، ان کی تجارت پر بھی پابندی لگ گئی جس کے بعد ان کے پاس صرف دو کام رہ گئے تھے، یہ بھیڑ بکریاں چراتے تھے اور یروشلم میں لوہے کی بھٹیوں میں مزدوری کرتے تھے، یہ شام کے بعد شہر میں نہیں رہ سکتے تھے۔
یہ اس سلوک پر روز گڑگڑا کر اللہ سے مدد مانگتے تھے، اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم آگیا اور اس نے ان میں حضرت دائودؑ کو بھجوا دیا، حضرت دائودؑ کو اللہ تعالیٰ نے بچپن میں دو خوبیوں سے نواز رکھا تھا، ان کی آواز بہت شان دار اور پراثر تھی، وہ گاتے تھے اور سننے والوں کی دھڑکن رک جاتی تھی، ان کی یہ خوبی انہیں بہت جلد دربار تک لے گئی، اس زمانے میں فلسطین پر بنجمن (حضرت یوسفؑ کے چھوٹے بھائی بن یامین) قبیلے کی حکومت تھی، سال (Saul) بادشاہ تھا، بادشاہ نے حضرت دائودؑ کو بجاتے اور گاتے سنا تو وہ ان کا فین ہوگیا اور انہیں اپنے دربار میں موسیقار کی نوکری دے دی، آپ اس زمانے کے دو ساز ہارپ (Harp) اور سوتھی (Soothe) بجانے کے ایکسپرٹ تھے۔
اللہ نے آواز شان دار دی تھی چناں چہ بادشاہ کی کوئی تقریب حضرت دائودؑ کے گانے اور بجانے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی تھی(نوٹ: یہ بائبل اور بنی اسرائیل کا ورژن ہے، قرآن مجید نے صرف لحن دائودی کا ذکر کیا)۔ آپ کی عمر اس وقت دس سے پندرہ برس کے درمیان تھی، آپ کا دوسرا فن نشانہ تھا، وہ بچپن سے رسی میں پتھر باندھ کر نشانے کی پریکٹس کیا کرتے تھے، اس پریکٹس نے آپ کو یہودا قبیلے کا سب سے بڑا نشانچی بنا دیا، آپ پھلوں سے لدے درخت پر کسی ایک پھل کا تعین کرتے تھے، رسی گھماتے تھے اور آپ کا پتھر صرف اسی پھل پر لگتا تھا اور صرف وہی ٹوٹ کر نیچے گرتا تھا، اس زمانے میں حضرت سیموئلؑ (Samuel) نبی تھے، آپؑ کا تعلق لاوی قبیلے سے تھا، آپؑ نے حضرت دائودؑ کو دیکھا اور فوراً پیش گوئی کر دی یہ بنی اسرائیل کا اگلا بادشاہ اور پیغمبر ہوگا۔ (بائبل میں حضرت دائودؑ کا پورا واقعہ "بک آف سیموئل" میں درج ہے)۔
بہرحال قصہ مختصر 1012 قبل مسیح میں گاتھ قوم نے یروشلم پر حملہ کر دیا، وہ لمبے قد کے خونخواہ لوگ تھے، گولیتھ (Goliath) ان کا بادشاہ تھا۔ قرآن مجید نے اس کا نام جالوت بیان کیا ہے، گولیتھ کا قد نو فٹ تھا، وادی الہہ (Elah) میں دونوں فوجوں کا آمنا سامنا ہوا، حضرت دائودؑ کا بھائی بنی اسرائیل کی فوج میں شامل تھا، آپؑ اسے کھانا دینے کے لیے لشکر گاہ آئے تھے، آپؑ نے دیکھا گولیتھ میدان کے درمیان کھڑا ہے، اس نے پورے جسم پر لوہا اور تانبا چڑھا رکھا ہے، صرف اس کا ماتھا خالی ہے، وہ بنی اسرائیل کو للکار رہاتھا لیکن کوئی اس کا مقابلہ کرنے کے لیے باہر نہیں نکل رہا، حضرت دائودؑ کے تھیلے میں ان کی رسی (انگریزی میں Sling اور........
