menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mashhad Mein Do Din (4)

41 0
02.04.2026

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے، یہ سکردو کے رہنے والے ہیں، ان کے والد 32 سال قبل تعلیم کے لیے قم آئے، حسین باقری اس وقت آٹھ سال کا تھا، یہ بھی والد کے ساتھ ایران آ گیا، مدرسے اور سکول دونوں سے تعلیم حاصل کی اور آخر میں دینی کی بجائے دنیاوی تعلیم کی طرف آ گیا، ایم بی اے کیا، ایران میں شادی کی اور سر تا پا ایرانی ہوگیا، ایرانیوں سے بہتر فارسی بولتا ہے اور اٹھنے بیٹھنے میں اس قدر ایرانی ہے کہ لوکل اسے غیر ایرانی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

اس نے مختلف ملازمتوں کے بعد زعفران کا کاروبار شروع کر دیا، کاروبار چل پڑا تو اس نے اقبال فورم کے نام سے تہران میں فکری اور سفارتی فورم بنا لیا، اس فورم کا مقصد پاکستان اور ایران کو نزدیک لانا ہے، یہ 2023ء میں میرا انٹرویو کرنے پاکستان آیا اور اس سے دوستی ہوگئی، دوستی کی کئی وجوہات ہیں، پہلی وجہ اس کی لرننگ کی عادت ہے، یہ نئی سے نئی چیزیں اور عادتیں سیکھتا رہتا ہے، دوسرا یہ صاف ستھرا شخص ہے، لباس اور نشست و برخاست میں بھی مہذب ہے اور یہ وہ خوبی ہے جو عموماً پاکستانیوں میں نہیں ہوتی اور تیسری وجہ یہ معلومات کا خزانہ ہے، مدرسے اور نارمل تعلیم کی وجہ سے تاریخ اور معاشرت دونوں کا پروفیسر ہے چناں چہ اس کے ساتھ دوستی ہوگئی اور میں اس کی دعوت پر 7 مارچ 2024ء کو ایران گیا۔

ہم نے اپنے سفر کا آغاز مشہد سے کیا تھا، مشہد کا لفظی مطلب شہادت گاہ یا شہید کا مقام ہوتا ہے، یہ شہر اہل تشیع کے آٹھویں امام حضرت رضاؒ کی مناسبت سے پوری دنیا میں مشہور ہے، امام یہاں کیسے پہنچے اور کیسے شہید ہوئے یہ طویل اور درد ناک داستان ہے، خلیفہ ہارون الرشید کے زمانے میں یہ علاقہ خراسان کہلاتا تھا، اس دور میں افغانستان اور پاکستان کے علاقے بھی خراسان میں شامل تھے، خلیفہ نے ایک رات خواب میں دیکھا دو ہاتھ اس کی طرف سرخ رنگ کی مٹی بڑھا رہے ہیں اور اس مٹی سے خاص قسم کی خوشبو آ رہی ہے، اسے ہاتھ جانے پہچانے محسوس ہوئے لیکن وہ انہیں شناخت نہ کر سکا۔

809ء میں خراسان میں بغاوت ہوئی اور خلیفہ اس کی سرکوبی کے لیے بغداد سے یہاں آ گیا، طوس شہر میں ایک شام اسے اپنا وہ خواب یاد آیا اور اس نے اپنے غلام کو حکم دیا جاکر صحن کی مٹی لے کر آئو، غلام گیا، زمین سے مٹی لی اور دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر بادشاہ کے حضور پیش کر دی، وہ ہاتھ، وہ مٹی اور وہ خوشبو تینوں خواب کے منظر تھے، ہارون الرشید کو فوراً یاد آ گیا، اس نے خواب میں جو ہاتھ دیکھے تھے وہ اسی غلام کے تھے، بادشاہ نے ہاتھ پہچان کر پیش گوئی کی میری موت کا وقت آ گیا ہے اور میں اسی زمین میں دفن ہوں گا، یہ بات سچ ثابت ہوئی، ہارون الرشید 17 دن بعد 24 مارچ 809ء کو واقعی طوس میں فوت ہوگیا اور اسے وصیت کے مطابق طوس کے مضافات میں سن آباد کے گائوں میں دفن کر دیا گیا اور اس کی قبر پر شان دار مقبرہ بنا دیا گیا۔

ہارون الرشید کے بعد اس کا بیٹا مامون الرشید بادشاہ بن گیا، مامون ہارون الرشید کی ایرانی بیگم کے بطن سے تھا جب کہ اس کا دوسرا بیٹا امین الرشید عربی بیگم زبیدہ کی اولاد تھا، دونوں شہزادوں کے درمیان اقتدار کے لیے رسہ کشی ہوئی، آخر میں مامون جیت گیا، امام رضاؒ اس وقت مدینہ منورہ میں رہائش پذیر تھے اور پوری اسلامی دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، مامون الرشید کو خطرہ محسوس ہوا کہیں اس کے عربی معززین امام کے ساتھ مل کر بغاوت نہ کر دیں لہٰذا مامون نے امام کو طوس بلا لیا۔

امام نے ایلچی سے پوچھا "کیا میرے پاس کوئی دوسرا راستہ ہے؟" آپ کو بتایا گیا "جی نہیں، آپ نے ہر صورت طوس پہنچنا ہے" امام زنان خانے میں گئے، اپنی ہمشیرہ سیدہ معصومہ سے ملاقات کی اور فرمایا، آپ مجھے آخری بار مل لیں، مجھے خدشہ ہے میں خراسان سے زندہ واپس نہیں آ سکوں گا، دونوں بہن بھائی دیر تک ایک دوسرے سے مل کر روتے رہے، امام اس کے بعد طوس تشریف لے آئے، مامون الرشید ان کا بہت احترام کرتا تھا، وہ ہر وقت انہیں اپنے ساتھ رکھتا تھا، اس نے انہیں ولی عہد بھی نامزد کر دیاتھا مگر یہ سب دکھاوا تھا، وہ اندر سے امام کی مقبولیت سے خائف تھا، اس نے امام کے نام سے سکہ بھی جاری کیا تھا جسے اہل تشیع سفر پروانہ ہونے سے قبل بازو پر باندھ لیتے تھے اور منزل پر پہنچنے کے بعد وہ سکہ بازو سے کھول کر خیرات کر دیتے تھے، یہ عمل "امام ضامن" کہلاتا تھا۔

امام نے جوانی میں کسی شکاری کو ہرن کی ضمانت دی تھی، شکاری ہرن کو شکار کرنا چاہتا تھا، ہرن کا بچہ جنگل میں بھوکا تھا، امام وہاں سے گزر رہے تھے، ہرن ان کے پائوں سے لپٹ کر عرض آپ آپ مجھے شکاری سے بچے کو دودھ پلانے کی مہلت لے دیں میں بچے سے مل کر واپس آ جائوں گی، یہ بے شک اس کے بعد مجھے شکار کر لے، امام نے شکاری کو ہرن کی ضمانت دے دی، ہرنی گئی اور واقعی بچے کو دودھ پلا کر واپس آ گئی، آپ اس کے بعد "امام ضامن" مشہور ہو گئے، خلیفہ مامون الرشید نے امام کے احترام میں جو سکہ جاری کیا تھا اس پر امام اور ہرن دونوں کا نقش تھا، لوگ اسے اسی لیے خرید کر........

© Daily Urdu