Lafz Izafi Hotay Hain
نیویارک کے ایک اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے نوجوان لڑکے کی آنکھوں میں جھانکا اور آہستہ سے سرگوشی کی "محبت گفتگو ہے" اس کے لہجے میں یقین کی کھنک تھی، نوجوان لڑکے کی آنکھوں کی پتلیوں اور پپوٹوں کے درمیان سرخ ڈورے سے بنے اور یہ ڈورے آہستہ آہستہ پھیلتے چلے گئے۔
قدرت نے انسان کے آئی کانٹیکٹ میں عجیب جادو رکھا ہے، دنیا میں جب بھی کوئی شخص پیار سے، محبت سے یا عقیدت سے دوسرے کی آنکھ میں جھانکتا ہے تو آنکھوں کی روشنی میں، جذبوں کے سرخ ڈوروں میں اور دل کی بے لگام، بے ربط دھڑکنوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ انسان قدرت کا سب سے بڑا اداکار ہے، یہ جھوٹ بولنے یا چھپانے پر آ جائے تو یہ اپنے آپ سے بھی چھپ جاتا ہے، یہ خود سے جھوٹ بول لیتا ہے، یہ اتنا بڑا اداکار ہے یہ دل کی بات بھی اپنے دماغ تک نہیں پہنچنے دیتا، یہ اپنا منصوبہ اپنے دل پر بھی آشکار نہیں ہونے دیتا لیکن یہ اتنا بڑااداکار ہونے کے باوجود اپنی آنکھوں سے نہیں چھپ سکتا، انسان کی آنکھیں جسم کا واحد عضو ہیں جو چھپا نہیں سکتیں، جو جھوٹ نہیں بول سکتیں، انسان کیا سوچ رہا ہے؟ یہ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس کی آنکھ میں آ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے دنیا کے تمام جانور انسان کو اس کی آنکھ سے سمجھتے ہیں۔
انسان کے سامنے شیر کھڑا ہو یا چڑیا تمام جانور اور پرندے انسان کی آنکھ میں جھانکتے ہیں اورفوراً اس کی ذات میں چھپی حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں۔ انسان جس قدر شیطان، بدفطرت اور مکار ہوتا جاتا ہے جانور اور پرندے اس سے اسی قدر دور ہٹتے جاتے ہیں جب کہ یہ بغیر ڈرے، بغیر جھجکے نیک لوگوں کی پلیٹ سے بوٹی تک اٹھا لیتے ہیں، یہ ان کے کندھوں پر بیٹھ کر دانا چگتے ہیں اور انھیں ذرا بھر خوف محسوس نہیں ہوتا، کیوں؟ کیونکہ یہ برے انسان اور اچھے انسان کو اس کی آنکھوں سے پڑھ لیتے ہیں چنانچہ اگر اچھے انسان نے ہاتھ میں تلوار بھی اٹھا رکھی ہو تو جانور اور پرندے اس سے خوفزدہ نہیں ہوتے اور برے انسان کے چہرے پر سمندر جتنی وسیع مسکراہٹ بھی ہو تو بھی پرندے اور جانور اس سے محفوظ فاصلے پر رہتے ہیں۔ انسان کی آنکھ میں اتنی جامع کمیونیکیشن پاور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اگرانسان........
