Kashan Mein Aik Din
کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے، یہ سارا علاقہ بنجر اور ویران ہے، ہائی وے کی دونوں سائیڈز پر دور دور تک ویرانی تھی تاہم بعض جگہوں پر سبزہ اور فصلیں تھیں مگر یہ خشک پہاڑ پر گھاس کے چند تنکوں کی طرح محسوس ہوتی تھیں، کاشان شہر گلاب کے کھیتوں، عرق گلاب، گل قند اور جڑی بوٹیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے، شہر میں جگہ جگہ عرق گلاب کی بھٹیاں اور پنسار خانے ہیں، دکانوں کے سامنے بھی عرق گلاب کشید ہو رہا تھا، اپریل کے مہینے میں کاشان کے گلاب کھلتے ہیں لہٰذا مضافات میں دور دور تک گلاب دکھائی دیتے ہیں۔
ہم دسمبر کے آخر میں کاشان میں داخل ہوئے تھے اس لیے گلاب کے کھیتوں اور مہک سے محروم رہے مگر اس کے باوجود شہر میں گلاب کا احساس تھا شاید یہ صدیوں تک گلاب کی ہمسائیگی کا نتیجہ تھا کہ فضا میں گلاب کی مہک نے مستقل ٹھکانہ بنا لیا تھا یا پھر یہ نفسیاتی اثر تھا لیکن ہمیں شہر کی فضا میں ایک کھلا پن اور فرحت کا احساس ہوا، کاشان سے پہلے راستے میں قمصر (Qamsar) کا قصبہ آتا ہے، اس میں عرق گلاب کی 60 بڑی فیکٹریاں اور سات سو چھوٹی بھٹیاں ہیں، یہ سالانہ 30 ہزار ٹن عرق گلاب پیدا کرتی ہیں، خانہ کعبہ کو بھی ہر سال کاشان کے عرق گلاب سے غسل دیا جاتا ہے، ربی زعفران قمصر اور کاشان کا سب سے مشہور برینڈ ہے۔
کاشان کی قدیم فصیل برقرار ہے، شہر کا قدیم حصہ اس دیوار کے اندر آباد ہے، کاشان کا قدیم بازار فصیل کے اندر ہے، یہ پانچ سو سال پرانا ہے اور یہ پہلی نظر میں دل کھینچ لیتا ہے، اس کے قدیم قہوہ خانوں میں وقت سانس لیتا ہے، ہم پہلے دن وہاں پہنچے اور شام تک بازار میں بیٹھے رہے، قدیم ایران میں روایت تھی لوگ گھروں کو باہر سے عام سا بناتے تھے، آپ کسی بھی گلی میں داخل ہو جائیں آپ امیر اور غریب کے گھر میں تمیز نہیں کر سکیں گے، آپ کو دونوں گھر ایک جیسے محسوس ہوں گے لیکن آپ جوں ہی ڈیوڑھی کراس کریں گے آپ نئی دنیا میں آ جائیں گے، ایرانی گھر اندر سے مکمل محل یا حویلی ہوتے ہیں، ہم کاشان میں ایک ایسی ہی حویلی میں رہے۔
یہ 48 کمروں کا بوتیک ہوٹل تھا، ہوٹل کی مالکن آرکی ٹیکٹ تھی، یہ اس کی نانی کا گھر تھا جو اسے ترکے میں ملا تھا اور اس نے اسے رینوویٹ کرکے ہوٹل میں تبدیل کر دیا، وہ باہر سے صرف ایک گیٹ محسوس ہوتا تھا لیکن ہم جوں ہی اندر داخل ہوئے ہم پر حیرت ایٹم بم کی طرح گری، وہ گھر پورا محل اور انتہائی خوب صورت تھا، ایران کے قدیم گھر چار حصوں میں تقسیم ہوتے تھے، بیرونی حصہ مردانہ کہلاتا تھا جس میں مرد اور مہمان ٹھہرتے تھے، یہ بیرون کہلاتا تھا، زنانہ حصے کو اندرون کہا جاتا تھا۔
اہل خانہ گرمیوں میں تہہ خانوں میں شفٹ ہو جاتے تھے،........
