Iran Kya Tha Aur Kya Ho Gaya
ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا
پیارے قارئین، ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی محبت ہے جسے انسان مرنے تک بھول نہیں سکتا، مجھے متعدد مرتبہ ایران جانے کا اتفاق ہوا، آخری وزٹ دسمبر میں ہوئی، اس میں میرے گروپ کے لوگ بھی شامل تھے، وہ سب بھی ایران کی محبت میں گرفتار ہو چکے ہیں، یہ ملک تاریخ، تہذیب اور کلچر کا شان دار مجموعہ ہے، لاہور کے بارے میں کہا جاتا ہے جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا نہیں ہوا جب کہ ایران کے بارے میں بلا سوچے سمجھے یہ کہا جا سکتا ہے آپ نے اگر ایران نہیں دیکھا تو پھر آپ کو پیدا ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
میں نے ایران کو ایسے حال میں دیکھا جس میں سڑکیں کھلی تھیں اور مارکیٹیں، کافی شاپس اور ریستوران آباد تھے لیکن پھر جنگ شروع ہوئی اور ایران میں 90 ہزار عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، کل رات تہران کے مغربی حصے میں بلیک آئوٹ بھی ہوگیا، ایران سے جو تصویریں آ رہی ہیں انہیں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
ہم نے جنگ سے قبل ایران کے سفر کی روداد لکھنی شروع کی تھی، جنگ کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا تھا لیکن میں اب چاہتا ہوں آپ ایران کے بارے میں گہرائی سے جانیں تاکہ آپ موجودہ صورت حال کو بہتر انداز سے سمجھ سکیں چناں چہ ہم آج سے یہ ٹوٹا ہوا سلسلہ دوبارہ شروع کر رہے ہیں، آپ ایران کی تازہ ترین صورت حال جاننے کے لیے ہمارے یوٹیوب چینل نیوٹرل بائی جاوید چودھری دیکھ سکتے ہیں، ہم روز اس پر تین وی لاگ کرتے ہیں جب کہ ہم اصل ایران ان کالموں میں پڑھیں گے لہٰذا بسم اللہ کریں۔
شیراز میں ایک دن ہماری اگلی منزل سعدی اور حافظ کا شیراز تھا، اصفہان اور شیراز کے درمیان پانچ گھنٹے کا فاصلہ ہے، راستہ ویران اور بے آب و گیاہ ہے لیکن اس کے آخر میں وہ شیراز آ جاتا ہے جس کے بارے میں حافظ نے کہا تھا "اگر آں ترک شیرازی بدست آرد دل مارا۔۔ بخال، ہندوش نجشم سمر قندوبخارا" یعنی میں اپنے شیرازی محبوب کے گال کے سیاہ تل پر سمر قند اور بخارا دونوں شہر خیرات کر دوں، اس شعر نے امیر تیمور کو شیراز آنے اور حافظ شیرازی کو طلب کرنے پر مجبور کر دیا، امیر تیمورشیراز آیا، شہر فتح کیا، حافظ کو بلایا اور اسے دیکھتے ہی کہا "اوبدبخت انسان میں نے فیصلہ کیا تھا میں کسی عالم، ادیب اور شاعر کو قتل نہیں کروں گا، میں نے اگر یہ وعدہ نہ کیا ہوتا تو تم اب تک میری تلوار کا رزق بن چکے ہوتے، تم اس قدر گستاخ ہو کہ میں نے سمرقند اور بخارا کو دنیا کے عظیم شہر بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیے اور تم انہیں اپنے معشوق کے گال کے تل پر بانٹتے پھر رہے ہو"۔
یہ سن کر لرزتے کانپتے شاعر نے دربار میں اپنا گائون اتار دیا، نیچے اس نے پھٹا ہوا کرتا پہن رکھا تھا، اس نے کرتے کے پیوند دکھا کر عرض کیا "حضور اس فیاضی کی وجہ سے تو ہمارا یہ حال ہوگیا ہے" تیمور یہ سن کر ہنس پڑا اور اس کے بعد تیمور کی فیاضی کی بدولت حافظ شیرازی نے باقی زندگی بڑی زبردست گزاری، تیمور نے اسے شیراز کی سب سے خوب صورت کنیز بھی دے دی جس نے اسے دنیا میں جنت کی سیر کرا دی لہٰذا وہ آخر وقت تک امیر تیمور کا شکر گزار رہا۔
حافظ کا اصل نام محمد اور لقب شمس الدین تھا، وہ بچپن میں یتیم ہوگیا اور نان بائی کی دکان پر آٹا گوندھنے لگا، خوش قسمتی سے تنور کے ساتھ مدرسہ تھا، وہ کام سے فراغت کے بعد مدرسے میں چلا جاتا تھا، اس نے وہاں سے قرآن مجید حفظ کیا، اسے نان بائی سے جو معاوضہ ملتا تھا، فیاض طبیعت کا مالک تھا، وہ معاوضے کا ایک حصہ والدہ، دوسرا استاد اور تیسرا خیرات کر دیتا تھا، محلے میں کپڑوں کا ایک سوداگر رہتا تھا، وہ شاعر تھا، حافظ نے اس سے شاعری سیکھ لی اور تک بندی شروع کر دی، اس کے شعر بہت واہیات اور بے وزن ہوتے تھے لیکن لوگوں نے اسے بطور مزاح........
