menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Great Game (4)

43 0
23.04.2026

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی تاریخ کے پہلے ارب پتی (بلینئیر) ہیں، یہ 2001ء میں فوربز کی بلینئیرز کی فہرست میں پہلے چینی شہری کی حیثیت سے آئے اور دنیا میں تہلکہ مچا دیا، لیوبرادرز کی کل دولت ایک بلین ڈالر تھی، یہ جانوروں کی خوراک بناتے تھے، ان کی کمپنی کا نام ہوپ گروپ تھا، یہ دونوں بھائی شیچوان سے تعلق رکھتے تھے، 1980ء تک غریب تھے، جوانی میں بٹیر کے انڈے بیچنا شروع کیے پھر مرغیوں کے فارم بنائے اور ترقی کرتے چلے گئے یہاں تک کہ 1982ء میں انہوں نے چین میں پہلا پرائیویٹ انٹرپرائز گروپ رجسٹرڈ کرالیا اور پھر 2001ء میں چین کے پہلے بلینئیرز بن گئے۔

یہ چین اور دنیا دونوں کے لیے حیران کن تھا، اس کے بعد تین سال تک سناٹا رہا، چین میں کسی نئے بلینئیرنے جنم نہیں لیا لیکن 2004ء میں مزید تین گروپ بلینئیرز کی فہرست میں شامل ہوگئے، ان میں سی آئی ٹی آئی سی کے چیئرمین لاری یونگ ڈیڑھ بلین ڈالر کے ساتھ دوسرے چینی ارب پتی، گوم الیکٹریکل کے بانی ہونگ گونگ یو ایک اعشاریہ تین بلین ڈالر کے ساتھ تیسرے اور شاندا انٹرایکٹو کے بانی چن تیانگ قیو ایک ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے چینی ارب پتی تھے اور اس کے بعد لائین لگ گئی یہاں تک کہ 2026ء میں دنیا کے کل 3428 بلینئیرز میں چین کے ایک ہزار ایک سو دس بلینئیرز شامل تھے اور ان میں سے نوے فیصد سیلف میڈ ہیں، چین میں یہ معاشی انقلاب کیسے آیا؟

اس کے اصل بانی چینی لیڈر ڈینگ شیائوپھنگ تھے، یہ مائوزے تنگ کے بعد چین کے لیڈر بنے اور انہوں نے 1978ء میں چین کی معیشت کو پوری دنیا کے لیے کھول دیا، ڈینگ شیائو پھنگ نے سب سے پہلے زراعت کو اوپن کیا، انہوں نے کسانوں کو اپنی اضافی فصل مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت دے دی، اس کے بعد انہوں نے سپیشل اکنامک زون بنائے اور ان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی سہولتیں اور ٹیکس فری مراعات دیں اور یوں چین کے دروازے پوری دنیا کے لیے کھل گئے، اس کا یہ نتیجہ نکلا چین دنوں اور مہینوں میں دنیا کا سب سے بڑا انڈسٹریل ہب بنتا چلا گیا۔

چین میں اس وقت 18کروڑ 85 لاکھ کمپنیاں اور فیکٹریاں ہیں، 2024ء میں چین میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد پانچ کروڑ 52 لاکھ تھی، 2025ء میں ان میں دو کروڑ 58 لاکھ کمپنیوں کا اضافہ ہوگیا، چین میں روزانہ اوسطاً 26 ہزار نئے کاروبار شروع ہوتے ہیں اور یہ اوسط دنیا میں سب سے زیادہ ہے، ان کمپنیوں میں شامل چار لاکھ اداروں کا سالانہ ریونیو چار اعشاریہ آٹھ ٹریلین ڈالر ہے، ایک ٹریلین ڈالر میں ہزار بلین ڈالر ہوتے ہیں اور پاکستان نے ایک ہفتہ قبل یو اے ای کا قرضہ ادا کرنے کے لیے سعودی عرب سے دو بلین ڈالر لیے تھے جب کہ چین کی چار لاکھ کمپنیاں سالانہ چار ہزار 800 بلین ڈالر کماتی ہیں۔

چین میں چوچی (Zhuji) نام کی کمپنی صرف جرابیں بناتی ہے، یہ جرابوں کے 25 ارب جوڑے سالانہ بناتی ہے جب کہ ڈینگ یانگ (Dang Yang) دنیا کے 40 فیصد آئی لینس بناتی ہے، سوچوو (Suzhou) انڈسٹریل پارک کا رقبہ 278 مربع کلومیٹر ہے اور اس کے اندر باقاعدہ ٹرینیں چلتی ہیں جب........

© Daily Urdu