Great Game (3)
ہم بائبل پڑھیں، قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ کریں یا پھر اینتھروپالوجی کی ریسرچ دیکھیں تو ہمیں محسوس ہوگا یہ سب چند نقطوں پر متفق ہیں، مثلاً حضرت آدمؑ اور بی بی حواءؑ دونوں کا تعلق مڈل ایسٹ سے تھا اور یہ خلیج فارس کے دائیں بائیں رہتے تھے، سائنس اور بائبل گارڈن آف ایڈن کا مقام بصرہ سے 130کلومیٹر کے فاصلے پر موجود القرعہ ٹائون بتاتی ہے، یہ مقام اب سمندر میں زیر آب ہے، اسلامی روایات مزدلفہ کو حضرت آدمؑ اور حضرت حواءؑ کا مقام اتصال قرار دیتی ہیں، ہابیل اور قابیل کا واقعہ شام میں پیش آیا تھا۔
آپ یہ جان کر شاید حیران ہوں شیطان بھی عراق میں اترا تھا، اربیل میں اس کا باقاعدہ ٹیمپل اور اس کے ماننے والے موجود ہیں، یہ یزیدی کہلاتے ہیں، ان کی آبادی سات سے 15 لاکھ کے درمیان ہے اور یہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں، ان کے عقائد کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آدم اور حواء کو پیدا کیا اور پھر ابلیس (شیطان) کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا، ابلیس نے انکار کر دیا، یہ لوگ یہاں تک بائبل اور قرآن مجید کے دعوئوں کو تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ اس کے بعد ایک نئی کہانی سناتے ہیں، ان کے بقول اللہ تعالیٰ نے جب ابلیس سے انکار کی وجہ پوچھی تو شیطان نے کہا میں نے ہمیشہ آپ کو سجدہ کیا، میں کسی غیراللہ کے سامنے کیسے جھک سکتا ہوں، یہ شرک ہے اور میں اس کے لیے تیار نہیں ہوں۔
یزیدیوں کے بقول اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ جواز قبول کر لیا اور اسے شاباش دی اور بعدازاں آدم اور حواء کو جنت سے نکال دیا، یہ جب نکلے تو شیطان نے اللہ سے عرض کی، آپ مجھے بھی ان کے ساتھ جانے دیں تاکہ میں ان پر نظر رکھ سکوں، اللہ نے یہ درخواست قبول کر لی اور یوں یہ بھی اربیل کے علاقے میں بنی آدم کے قریب آباد ہوگیا، یزیدی شیطان کو اپنا امام مانتے ہیں، ان لوگوں کا سب سے بڑا ٹیمپل اربیل سے دو گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے، یزیدی دنیا میں شیطان کے واحد معلوم پجاری اور یہ ٹیمپل واحد عبادت گاہ ہے، یہ ثابت کرتا ہے یہ واقعہ آج کے عراق میں وقوع پذیر ہوا تھا، سولائزیشن کے ماہرین اربیل شہر کو دنیا کا قدیم ترین شہر قرار دیتے ہیں، ان کے بقول انسان نے کھیتی باڑی بھی یہاں شروع کی اور پہیہ اور کپڑا بھی یہیں ایجاد........
