menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Great Game (2)

54 0
19.04.2026

حضرت آدمؑ اور حضرت حواءؑ سے متعلق قرآن اور حدیث کیا کہتی ہے ہم اب اس طرف آتے ہیں۔ میں سب سے پہلے آپ کے سامنے قرآنی حوالہ جات رکھ رہا ہوں۔ قرآن مجید میں لفظ آدم چوبیس بار آیا ہے اور سات مقامات پر حضرت آدمؑ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: بے شک میں زمین میں اپنا نائب (خلیفہ) بنانے والا ہوں، فرشتوں نے عرض کیا "کیا آپ زمین میں ایسی مخلوق بنائیں گے جو زمین میں فساد مچائے گی اور خون بہائے گی اور ہم آپ کی تسبیح بیان کرتے ہیں آپ کی تعریف کے ساتھ اور آپ کی بزرگی بیان کرتے ہیں۔

اللہ تعالی نے فرمایا: بے شک میں خوب جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ پھر فرمایا "ہم نے انسان (آدم) کو خشک بجتی ہوئی مٹی سے بنایا اور فرشتوں سے کہا: جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا۔ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو ساری چیزوں کے نام سکھائے پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا "اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ خلیفہ بنانے سے زمین کا انتظام بگڑ جائے گا) تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاؤ؟" فرشتوں نے عرض کیا "ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں جتنا آپ نے ہم کو سکھایا ہے، حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ہے"۔

پھر اللہ تعالیٰ نے آدمؑ سے فرمایا "تم انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ" جب آدمؑ نے فرشتوں کو سب چیزوں کے نام بتا دئیے تو اللہ رب العزت نے فرمایا "میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمینوں کی ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تمہیں معلوم نہیں ہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا: آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ جنوں میں سے تھا تو وہ اپنے رب کے حکم سے نکل گیا تو (اے لوگو!) کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں، ظالموں کیلئے کیا ہی برا بدلہ ہے۔ (پھراللہ نے پوچھا) "اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ سجدہ نہ کیا؟ حالانکہ میں نے اس بات کا حکم دیا ہے، اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں آپ نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے۔

شیطان نے جواب دیا: میرا یہ کام نہیں کہ میں اس بشر کو سجدہ کروں جسے آپ نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا: تو اس لائق نہیں کہ تکبر کرے پس یہاں سے نکل تو مردود ہے اور روز........

© Daily Urdu