menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Coba Mayan

43 0
04.06.2026

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا، کین کون میں ٹیکسی سروس اچھی ہے، تمام ٹیکسیاں رجسٹرڈ ہیں، ڈرائیور یونیفارم میں ہوتے ہیں، گاڑیاں صاف ستھری ہیں اور کرائے فکس ہیں، ہوٹل کے گیٹ پر ٹیکسیوں کے کرائے لکھے ہوتے ہیں، ٹیکسی کا بندوبست بھی ہوٹل کرتا ہے، ہم نے کوبا اور تلوم دو منازل کے لیے ٹیکسی لے لی، ڈرائیور سپینش تھا، واجبی سی انگریزی جانتا تھا، کوبا اڑھائی گھنٹے کی ڈرائیو پر گھنے جنگلوں میں تھا۔

مایا لوگ جنگلوں میں شہر اور قصبے آباد کرتے تھے تاکہ یہ دشمنوں سے محفوظ رہ سکیں، دوسرا یہ فطرت پرست تھے، پانی اور درختوں کی پوجا کرتے تھے، جنگلوں میں پانی کے تالابوں کے قریب رہتے تھے، کوبا کا مطلب ہی پانی کی زمین یا جھیل کے قریب تھا، کوبا مایا لوگوں کی بڑی بستی یا شہر تھا، شہر 50 قبل مسیح میں آباد ہوا، دائیں بائیں گھنے جنگل تھے، آپ اگر فضا سے شہر کو تلاش کرنا چاہیں تو یہ آپ کو نظر نہیں آئے گا، اس کی آبادی 50 ہزار نفوس تک تھی، یہ تباہی کے بعد جنگلوں کا حصہ بن گیا اور اسے درختوں، جھاڑیوں اور بیلوں نے ڈھانپ لیا، اسے سب سے پہلے 1842ء میں جان لائیڈ سیفنز نام کے سیاح اور محقق نے تلاش کیا، 1920ء میں اسے باقاعدہ آثار قدیمہ سمجھا گیا اور 1970ء میں اسے سیاحت کے لیے کھول دیا گیا، شہر 27 مربع میل پر مشتمل تھا، سردست اس کا صرف دو کلومیٹر کا علاقہ کھلاتھا، اس میں چھ ہزار عمارتوں کے آثار ہیں۔

کوبا کے وزٹ کے لیے مرکزی شاہراہ سے اتر کر گھنے جنگل میں جانا پڑتا ہے، گیٹ پر دو قسم کے ٹکٹ ملتے ہیں، پہلا ٹکٹ پارکنگ اور ٹکٹ گھر تک جانے کے لیے ہوتا ہے جب کہ دوسرے ٹکٹ کے ذریعے سیاح آثار دیکھ سکتے ہیں، آثار کو سمجھنے کے لیے گائیڈ ضروری ہیں، ہمیں ٹکٹ گھر کے سامنے گائیڈ مل گیا، اس نے ہم سے سو ڈالر وصول کیے اور ہمیں ساتھ لے کر جنگل میں داخل ہوگیا، گھنے جنگل کے درمیان خشک پتھریلی پگڈنڈی تھی، گورے پورا دن گزارنے کے لیے یہاں آتے ہیں، یہ پیدل پھرتے ہیں یا سائیکل چلا کر تمام آثاروں کا طواف کرتے ہیں، ٹکٹ گھر سے چند منٹ کے فاصلے پر سائیکل سٹینڈ موجود تھا جہاں سے سائیکلیں کرائے پر مل سکتی تھیں۔

گائیڈ ہمیں سب سے پہلے شہر کے نقشے کے پاس لے کر گیا، اس کا کہنا تھا یہ شہر سینکڑوں میل تک پھیلا ہوا تھا، اس کے گرد پانچ جھیلیں تھیں، یہ آ ج بھی موجود ہیں، مایا لوگ پتھروں کی عمارتیں بناتے تھے، اہرام بنانے کے ماہر تھے، اہرام بنانے کی دو وجوہات تھیں، وہ ستارہ شناس تھے، وہ بلندی سے ستاروں کی چال کو سمجھنا چاہتے تھے اور دوسرا وہ دور سے دشمن کو بھانپنے کے لیے بھی اونچی عمارتیں بناتے تھے، علاقے میں خاص قسم کے درخت پائے جاتے تھے، ایک درخت سے اخروٹ جتنا پھل اترتا تھا، اس کے اندر سے گوند نکلتی تھی، مایا لوگ اس سے چیونگم بناتے تھے، یہ دانتوں اور منہ کی صفائی کے لیے اچھی ہوتی تھی، وہ لوگ پورا دن اسے........

© Daily Urdu