menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Cancun Mein Char Din

54 0
02.06.2026

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے، یہ میکسیکو کے دارالحکومت سے پندرہ سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، آپ اگر اسے نقشے میں دیکھیں تو آپ کو کین کون خلیج کا حصہ محسوس ہوگا، اس کے سامنے سمندر ہے اور سمندر کے بعد خشکی کی لمبی پٹی، یہ پٹی باجا کیلیفورنیا کہلاتی ہے، سمندر کا وہ حصہ گلف آف کیلیفورنیا ہے، باجا کیلیفورنیا کی سرحدیں امریکی ریاست کیلیفورنیا سے ملتی ہیں، امریکی شہر سین ڈیگو باجا کیلیفورنیا کی سرحد سے قریب ہے جب کہ لاس اینجلس بھی زیادہ دور نہیں۔

کین کون ماضی میں مایا سولائزیشن کا مرکز ہوتا تھا، یہ تہذیب آج کے میکسیکو، گوئٹے مالا، بلیز (Belize) ہینڈوراس اور ایل سلوا ڈور تک پھیلی ہوئی تھی، اس کی تاریخ دو ہزر قبل مسیح تک جاتی ہے اور وہ سائنس، آرکی ٹیکچر، ریاضی، جیومیٹری، آرٹ، کلچر اور ٹائون پلاننگ میں ہماری تہذیبوں سے بہت آگے تھی، وہ لوگ اہرام (پیرا مڈ) بنانے کے ماہر تھے، وہ ریاضی میں صفر کا استعمال بھی جانتے تھے، انہوں نے ہم سے پہلے کاغذ ایجاد کیا تھا، کتابیں لکھی تھیں، مجسمہ سازی اور پتھروں میں نقش گری سیکھی تھی، فٹ بال اور باسکٹ بال کھیلنا شروع کیا تھا، وہ شہد کے استعمال سے بھی واقف تھے، کپڑا بناتے تھے، ہتھیار چلانا جانتے تھے، ان کا کیلنڈر ہم سے بہتر تھا، وہ ہم سے اچھے ستارہ شناس تھے، وہ دانتوں میں سوراخ کرکے ان میں سونا اور موتی بھی پرو لیتے تھے اور اندھیرے میں چمکنے والی سڑکیں بھی بنا لیتے تھے، وہ لوگ جسمانی لحاظ سے بھی ہم سے بہتر اور توانا تھے، مایا لوگ کہاں سے آئے تھے اور انہوں نے یہ علوم کہاں سے سیکھے؟ یہ آج تک مسٹری ہے۔

بہرحال کولمبس کے بعد سپینش جہاز رانوں نے انہیں دریافت کیا اور دو سو سال لگا کر ان کی تہذیب تباہ کر دی لیکن یہ اس کے باوجود ان کے اہراموں اور رہائشی عمارتوں کا جلوہ نہ توڑ سکے، یہ ان کی آن، بان اور شان کا مقابلہ نہ کر سکے، یہ آثار آج بھی قائم ہیں اور ماڈرن ذہن کو روزانہ ورطہ حیرت میں ڈالتے ہیں۔

مجھے مئی کے آخر میں کین کون جانے کا اتفاق ہوا، میں 9 مئی کو کینیڈا گیا تھا، مانٹریال میں میرے بچپن کے دوست صاحب زادہ غلام مجتبیٰ رہتے ہیں، ہم ہائی سکول میں اکٹھے پڑھتے رہے، 1984ء میں الگ ہوئے اور پھر زندگی کی آندھیاں ہمیں پیلے پتوں کی طرح اڑاتی اور بکھیرتی رہیں، گزشتہ سال ان سے رابطہ ہوا، پرانی محبت دوبارہ جاگی اور ہماری تواتر کے ساتھ ملاقاتیں ہونے لگیں، مجھے انہوں نے ائیر پورٹ سے لیا اور میں دو دن مانٹریال اور کیوبک سٹی رہا اور پھر بیٹی کے پاس نیویارک چلا گیا، اس کی گریجوایشن کا فنکشن (کانووکیشن) تھا۔

مئی میں نیویارک کے تمام تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کے........

© Daily Urdu