Balochistan Doob Raha Hai (3)
بلوچستان ڈوب رہا ہے (3)
بلوچستان میں انگریز کے آنے تک چار بڑی ریاستیں تھیں، قلات سب سے بڑی اور پرائمری سٹیٹ تھی، اس کے بعد خاران، لسبیلہ اور مکران تھی، بلوچ اور بروہی قبائل ان چاروں میں تقسیم تھے، 1857ء کی جنگ کے بعد ملکہ برطانیہ نے ہندوستان کو اپنی سلطنت قرار دے دیا اور انتظام چلانے کے لیے وائسرائے بھجوانا شروع کر دیے، اس زمانے میں رابرٹ سنڈیمن نام کا ایک کردار سامنے آیا، وہ سکاٹ لینڈ کے شہر پرتھ میں پیدا ہوا تھا، اس کا والد جنرل تھا، وہ 1856ء میں ملٹری آفیسر بن کر ہندوستان آیا اور انفنٹری کی 33 بنگال رجمنٹ جوائن کرلی۔
رابرٹ سنڈیمن کا آخری کارنامہ لکھنؤ پر قبضہ تھا، وہ اس کے بعد کمشنر بنا کر پنجاب بھجوا دیا گیا اور وہ بعدازاں ڈیرہ غازی خان کا ڈسٹرکٹ آفیسر بن گیا، اس نے ڈی جی خان میں بیٹھ کر بلوچ سرداروں سے ملاقاتیں شروع کیں اور آخر میں "ٹرائبل پیسی فکیشن (Tribal Pacification) کے نام سے ایک پراجیکٹ بنایا، یہ پراجیکٹ وائسرائے نے منظور کر لیا اور یوں بلوچستان میں ان حالات کی کاشت کاری شروع ہوگئی جس کی فصل آج پاکستان کاٹ رہا ہے۔
رابرٹ سنڈیمن کے پراجیکٹ کو سینڈیمنائزیشن (Sandemanization) بھی کہا جاتا ہے، اس پراجیکٹ کے تین حصے تھے، سنڈیمن نے بلوچستان کے تین حصے کر دیے، کوہ سلیمان کی شمالی سائیڈ کو پشتون بیلٹ قرار دے دیا گیا، اس بیلٹ میں ڈی آئی خان، ٹانک، وزیرستان اور شیرانی کے علاقے آ گئے، پہاڑ کی جنوبی سائیڈ کو بلوچ قبائل کی حدود مان لیا گیا جب کہ ڈی جی خان، روجھان اور راجن پور کے علاقوں کو پنجاب میں شامل کر دیا گیا جس کے نتیجے میں گورچانی، لنڈ، قیصرانی، لغاری، کھوسہ، مزاری اور ملغانی قبائل لاہور کے ساتھ جڑتے اور پنجابی ہوتے چلے گئے، چوتھی سائیڈ سندھ کے ساتھ لگتی تھی، سنڈیمن نے تالپور، چانڈیو، جتوئی، کھوسو، زرداری، کلماتی اور آدھے سے زائد رند قبائل کو سندھ میں شامل کر دیا اور یہ سندھی ہوتے چلے گئے یوں بلوچوں کی طاقت چار حصوں میں تقسیم ہوگئی۔
دوسرا سنڈیمن نے ژوب کی وادی فتح کرکے وہاں قلعہ اور انگریزی چھائونی بنا دی، یہ علاقہ 1976ء تک فورٹ سنڈیمن کہلاتا تھا، حکومت پاکستان نے 1976ء میں اسے دوبارہ ژوب کا نام دے دیا، یہ آج کل ژوب کہلاتا ہے، سنڈیمن نے اس کے بعد اپنے دوست اور مزاری قبیلے کے سردار نواب عمران بخش مزاری کے ذریعے خان آف قلات سے معاہدہ کیا، 1883ء میں قلات سے درہ بولان کرائے پرلیا اور 1886ء میں ریلوے لائین بچھا کر اسے سنٹرل انڈیا سے جوڑ دیا، اس نے اس کے بعد خان آف قلات سے کوئٹہ کا علاقہ لیز پر لیا اور مٹی کے کچے گھروں کو گرا کر شال نام کے اس گائوں کو بلوچستان کا سب سے بڑا کنٹونمنٹ ایریا بنا دیا۔
یہ ایک ماڈرن شہر تھا جسے "لٹل لندن" کہا جاتا تھا کیوں کہ اس میں انگریزوں کے لیے وہ تمام سہولتیں موجود تھیں جنہیں یہ لندن میں انجوائے کرتے تھے،........
