Comfort Zone Ki Thapki
دنیا کے بیشتر لوگوں کی طرح میں بھی اپنےآبائی شہر یا اس کے اردگرد نزدیک ترین برانچ میں پوسٹنگ کا خواہشمند رہتا تھا۔ پہلے خان پور سے بہاولپور پھر بہاولپور سے اوچشریف اور پھر اوچشریف سے احمدپورشرقیہ اور پھر شاہی والا یہ مقامات تھے جہاں سے میں روزآنہ کی بنیاد پر گھر واپس آسکتا تھا۔ یوں میں نے زندگی کے پندرہ سال گزار دیے اور میں بہترین کارکردگی کے باوجود کنوئیں کا مینڈک بن کر بمشکل گریڈ تھری افسر ہی بن سکا۔ پھر میرا تعلق یونین لیڈر غلام محمد ڈوگر مرحوم سے ہوا جو دوستی میں بدل گیا اور ہم نے اکھٹے عمرہ کی سعادت حاصل کی تو اس دوران انہوں نے عثمان غنی شہید (موجودہ وفاقی وزیر سعید غنی کے والد) کی موجودگی میں مجھے کہا جاوید! تم جانتے ہو کہ "کمفرٹ زون کی تھپکی" کیا ہوتی ہے۔ میں نے کہا نہیں! تو کہنے لگے ہر انسان کو کمفرٹ زون یہ تھپکی دیتا ہے کہ تم مزید آگے نہ بڑھو تمہارئے لیے یہی آرام اور سکون کافی ہے۔ مزید رسک مت لو ایسا نہ ہو کہ یہ بھی گنوا بیٹھو۔ گویا ناکامی کا خوف رسک لینے سے روکتا ہے۔ جب کچھ کرنا چاہتے ہو تو یہ کمفرٹ زون تھپکی دیکر پھر تمہیں روک دیتا ہے۔
پھر وہ کہنے لگے تم میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں لیکن تمہاری کمزوری تمہارا کمفرٹ زون یعنی تمہارا گھر ہےاور تم گھر سے دور جانا نہیں چاہتے۔ اگر ترقی کرنی ہے تو تمہیں اس کمفرٹ زون سے باہر نکلنا ہوگا۔ میں نے کہا ناکامی سے ڈر لگتا ہے تو کہنے لگے کمفرٹ زون ناکامی سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور یہ صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیتا ہے۔ گھر میں تو ہر انسان شیر ہوتا ہے ذرا گھر سے باہر جاکر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر دکھاو۔ ناکامی انسان کو توڑتی ضرور ہے مگر اکثر وہیں سے ایک نئی تعمیر کا آغاز بھی ہوتی ہے۔ ناکامی آدمی کو اپنی کمزوریوں کا آئینہ دکھاتی ہے، اسے دوبارہ اٹھنے، راستہ بدلنے اور پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے لیکن کمفرٹ زون وہ خاموش قید ہے جس کی سلاخیں دکھائی نہیں دیتیں۔
زندگی ہمیشہ سکون میں نہیں حرکت اور کوشش میں آگے بڑھتی ہے۔ زندگی کا یہی المیہ ہے کہ محفوظ رہنے کی خواہش بعض اوقات انسان کو زندگی کے اصل امکانات و انعامات سے محروم کردیتی ہے۔ کمفرٹ زون کا نشہ ایسا زخم ہے جو دکھائی نہیں دیتا صرف انسان کی صلاحیتوں کو........
