menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Nisf Sadi Ka Azala

15 0
yesterday

محترم انجنیئر رائے منظور احمد آئی پی پیز پر نہائت معلوماتی تحقیق کررہے ہیں۔ اسکے آگے لمبی اور مشکل قانونی جنگ ہے جو کبھی منطقی نتیجے پر پہنچی تو بھی قوم کی اذیت اور ذلت کا ازالہ آسان نہیں۔ مالی نقصان کی تلافی کا حال یہ ہے کہ بالفرض 1980 میں کسی زید یا بکرنے ایک ارب روپے کا گھپلا کیا، تو 2024 تک اسکا صرف روپوں میں نقصان 108 ارب بنتا ہے۔ اس دوران اندرونی بیرونی مہنگائی، سود اور اجتماعی خساروں کا بھی حساب لگائیں تو اعدادوشمار مزیدکئی گنا بڑھ جائیں۔ زید بکر خود 44 سال مزید مہلت اور وارداتوں سےکھربوں پتی بن چکے ہونگے اور انکی دوسری تیسری نسلیں ہماری خاندانی حکمران۔

ملک خداداد کی تاریخ میں جزا سزا کی نظیر بھی نہیں ملتی۔ بالفرض ڈیل یا جرمانے کی مد میں وہ ایک ارب روپے ہی واپس مل جائیں تو ان کی ویلیو ردی ہو چکی، یا اس مال غنیمت سے آل زید و بکر کا قیمتی وقت بچانے کیلئے جہاز خرید لیں گے۔ کبھی تربیلا ڈیم 25-30 ارب روپے کا پڑا تھا۔ آج بھاشا ڈیم پندرہ بیس کھرب کو چھو رہا ہے اور اس سے بھی ذیادہ رقم ہرسال کپیسٹی پیمننٹس میں دینی پڑتی ہے۔ ایک بات طے ہے کہ گورننس کا یہ ماڈل اپنی طبعی عمر پوری کرچکا ہے۔ ذیادہ تفصیل پھر سہی لیکن فی........

© Daily Urdu