Makateeb e Majeed Amjad: Aik Ehad Ki Bazyaft
مکاتیبِ مجید امجد: ایک عہد کی بازیافت
ادبی خطوط کی اہمیت و افادیت سے اس لیے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی بدولت کسی ادیب کی شخصیت، اس کا عہد، سیاسی و سماجی حالات اور ادبی و ثقافتی منظر نامے سے شناسائی حاصل ہوتی یے۔ مزید برآں ان خطوط سے شاعروں کی معاصرانہ چشمک، ادبی معرکے، رجحانات اور تحریکوں سے وابستگی کا بھی پتہ چلتا ہے اور یہی سب کچھ کسی شخصیت کے سوانحی حالات اور ادبی تاریخ کی ترتیب و تہذیب میں بھی کسی حد تک معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
جدید اردو نظم کے ممتاز ترین شاعر مجید امجد کی شخصیت اور تخلیقی مزاج کو سمجھنے میں دیگر چیزوں کے علاوہ ان کے خطوط کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ ان میں بہت سا ایسا مواد مل جاتا ہے جو عام طور پر نظر سے نہیں گزرتا۔ ان خطوط کی جمع آوری خاصا کٹھن اور صبر آزما کام تھا جسے نوجوان شاعر اور محقق انعام کبیر نے بہ طریق احسن نبھایا ہے۔ انھوں نے امجد صاحب کے تمام خطوط کو یکجا کر دیا ہے۔ (ہو سکتا ہے کہ امجد صاحب کے کچھ مزید خطوط بھی مل جائیں)۔
انعام کبیر نے "مکاتیبِ مجید امجد" کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں کچھ مکالماتی خطوط ہیں جن میں امجد صاحب کی اپنی نظم کی تفہیم کے حوالے سے چند استفسارات کا جواب دیا گیا ہے۔ اس کی ترتیب کچھ اس طرح ہے کہ پہلے امجد صاحب کی نظم ہے۔ بعد ازاں "شاعر سے سوال" ہے اور پھر "شاعر کا جواب" دیا گیا ہے۔ اس حصے میں وزیر آغا اور انور سدید کے ساتھ مکالماتی مکتوب نگاری ہے۔
کتاب کے دوسرے حصے میں امجد صاحب کے لکھے ہوئے خطوط ہیں جو انھوں نے کبیر انور جعفری، ضیا شبنمی، ناصر شہزاد،........
