menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tehran Ijlas, Nai Saf Bandi Ya Aman Ki Koshish

29 0
28.10.2026

تہران اجلاس، نئی صف بندی یا امن کی کوشش

علاقائی تنازعات کسی ایک ملک کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ ایران و امریکہ کشیدگی، اسرائیلی فوجی کاروائیاں، خلیج میں عدم تحفظ اور یمن کے حوثی حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کو بحران کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کا ایک جگہ بیٹھنا ایسی سرگرمی ہے جو خطے کے بدلتے سیاسی اور سلامتی کے تقاضوں کی علامت ہے۔ چھبیس اکتوبر2026 کے تہران اجلاس کا اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے باوجود ایران سے براہ راست رابط کیا یہ مذاکرات اِس تاثر کو زائل کر سکتے ہیں کہ مکہ دفاعی معاہدہ کسی دوسرے علاقائی ملک کے خلاف محاز آرائی کے لیے تشکیل پایا ہے۔

تہران اجلاس میں جوہری پاکستان کا کردار اہم ہے جس کے ایران، سعودی عرب اور ترکیہ، تینوں سے سفارتی، دفاعی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ ایران کے ساتھ بھی طویل سرحد ہے، سعودی عرب کے ساتھ گہرے دفاعی روابط ہیں، ترکیہ کے ساتھ سیاسی و معاشی تعاون ہے۔ اگر اسلام آباد اِن تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے مخالف فریقوں میں روابط بہتر کرا دے تو پاکستان کی سفارتی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے تاہم ثالثی کا کردار ادا کرنا آسان نہیں۔ پاکستان کو سعودی عرب کی سلامتی اور دفاعی معاہدے کی اپنی ذمہ داریوں کو مدِ نظر رکھنا ہوگا جبکہ ایران کے ساتھ تعلقات خراب ہونے سے سرحدی سلامتی، تجارت اور علاقائی استحکام متاثر ہو سکتا ہے لہذا ضروری ہوگا کہ کسی ایک فریق کے موقف کو دوسرے پر مسلط کرنے کی بجائے مذاکرات، جنگ بندی اور باہمی اعتماد کی بحالی........

© Daily Urdu