menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jang, Dhamkiyan, Jhoot, Daway Aur Mehangai Ka Tufan

23 0
06.04.2026

جنگ، دھمکیاں، جھوٹ، دعوے اور مہنگائی کا طوفان

آج پاکستان میں 5 اپریل ہے (یہ سطور لکھتے وقت) لیکن 4 اپریل کو امریکی حکام نے شہید ایرانی کمانڈر قاسم سلمانی کی بھانجی اور نواسی کے گرین کارڈ منسوخ کرکے انہیں تحویل میں لینے اور امریکہ بدر کرنے کیلئے قانونی کارروائی کا جو اعلامیہ جاری کیا تھا اس کی قاسم سلمانی کی صاحبزادی زینب سلمانی نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ میں گرفتار خواتین کا ان کے والد کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں۔

مگر 4 اپریل کی سپہر کے بعد جونہی یہ امریکی اعلامیہ سامنے آیا اس کے درست و غلط ہونے پر ایک دنگل شروع ہوگیا۔ دونوں جانب کے مجاہد پہلوانوں کے پاس داو پیچ سے بھرے دلائل ہیں اور وہ دے رہے ہیں لیکن اس تحریر نویس کی رائے میں زینب سلمانی کی ترید بظاہر کافی شافی ہے اس لئے امریکہ کے انسانی حقوق اور مختلف الخیال طبقات پر مشتمل سماج یا قوانین کے دوغلے پن پر بحث "فضول خرچی" کہلائے گی۔

البتہ شہید علی لاریجانی کی صاحبزادی جو اپنے شوہر سمیت امریکہ میں مقیم اور ایک یونیورسٹی میں پروفیسر تھیں ملازمت اور امریکی شہریت کے خاتمے کے بعد ان کے بارے میں یہ اطلاعات ہیں کہ وہ شوہر سمیت کینیڈا منتقل ہوگئی ہیں امریکہ ان کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اسی دوران بعض کالعدم اور حاضر سروس فرقہ ورانہ تنظیموں کے سوشل میڈیا اکاونٹس سے ایران پر سنگ باری کا نیا فرقہ ورانہ سلسلے کا آغاز ہوچکا سنگ بازوں کے لشکر میں ناشتہ گروپ بھی شامل ہے۔

ادھر ایران پر مسلط امریکہ و اسرائیلی جارحیت 35 ویں روز میں داخل ہوچکی جب آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے تو جنگ کا 36 واں دن ہوگا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "ایران کے پاس دی گئی 10 دن کی مہلت میں سے 48 گھنٹے باقی بچے ہیں وہ ڈیل کرلے ورنہ قیامت ٹوٹ پڑے گی"۔ ہمزاد فقیر راحموں جو آجکل امریکی صدر ٹرمپ کو "بابائے امنِ عالم" کہتے لکھتے ہیں نے ٹرمپ کے اس بیان پر پوچھا "شاہ جی پچھلے 35 دنوں سے امریکہ اور اسرائیل ایران پر عرق گلاب کی بارش کررہے تھے کیا کہ اب قیامت توڑیں گے؟"

امریکی صدر نے آنے والے دنوں میں زمینی کارروائی کرنے کا عندیہ بھی دیا جواباً ایرانی کہتے سنائی دے........

© Daily Urdu