menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sindh Ka Pehla Dar Ul Hukumat Karachi: Sindh Ke Liye Bais e Sharaf o Iftikhar

39 0
17.03.2026

پاکستان کا پہلا دارالحکومت کراچی: سندھ کے لیے باعثِ شرف و افتخار

بحیثیت پنجابی مجھے بہت فخر ہے کہ پاکستان کا دارالحکومت پنجاب کی سرزمین کے اندر واقع ہے۔ یہ فخر مجھے اپنی انفرادی سطح پر بھی ہے اور اجتماعی طور پر بحیثیت پنجابی بھی۔ اس فخر میں باقی پنجابی بھی شامل ہیں۔ مگر جب میں دیکھتا ہوں کہ سندھی قومیت اور نسل پرست دوست اب تک اِس بات پر ناراض رہنے پر مصر ہیں اور اِس ناراضی کو اپنی آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کے 'مقدس' کام کو بڑی تندِہی کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں کہ کراچی کو قیامِ پاکستان کے وقت پاکستان کا دارالحکومت کیوں بنایا گیا، تو مجھے حیرت ہوتی ہے اور ساتھ ہی افسوس بھی۔

یہ تو بڑی عزت اور فخر کی بات تھی کہ ملک کے قیام کے بعد آپ کے صوبے سے ایک شہر کو اُس کا دارالحکومت بنانے کے لیے چنا گیا۔ لیکن ہمارے یہ دوست نہ صرف اِس کو عزت اور فخر کی چیز نہیں سمجھتے بلکہ اِس بات پر باقاعدہ اور مستقلًا ناراض ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ یہ دوست عزت اور فخر کی اِس چیز پر ناراض ہیں؟ یہ مضمون میں نے اِس موضوع پر لکھا ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت کراچی کو پاکستان کا دارالحکومت کیوں بنایا گیا تھا۔

میں اِن دوستوں سے درخواست کروں گا کہ وہ اِس موضوع پر میرا موقف بھی سنیں اور پھر فیصلہ کریں کہ کیا کراچی کو سندھ سے الگ کرکے پاکستان کا دارالحکومت بنانا قصداً سندھ کے ساتھ زیادتی یا بدنیتی تھی؟

ہم سب اِس بات کو مانتے ہیں کہ سندھ کی ایک طویل تاریخ اور بہت ہی شاندار ثقافت ہے جس پر اِس کے باشندے بجا طور پر فخر کرتے ہیں۔ اب جون سے اگست 1947ء کی صورتِ حال پر نظر ڈال لیتے ہیں۔ یہ ایک عبوری دور تھا۔ برطانوی راج ختم ہو رہا تھا اور ایک نیا دور شروع ہونے والا تھا۔ اُس دور میں آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن جلدی میں تھے۔ وہ 22 مارچ 1947ء کو ہندوستان پہنچے تھے اور اُنھیں ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ جون 1948ء تک ہندوستان کے مستقبل کے لیے ایک قابلِ عمل اور سب کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کریں، اقتدار کو جانشینِ ریاست یا ریاستوں کو منتقل کر دیں اور وہاں موجود تمام برطانوی نظام کو لپیٹ کر ہندوستان چھوڑ دیں۔ اُنھوں نے اپنی آمد کے فوری بعد ہندوستان میں موجود قطبی تقسیم کی شدت کا اندازہ لگا لیا اور اقتدار منتقل کرنے کی تاریخ کو قریب لانے کا فیصلہ کیا اور اِس کے لیے 15 اگست 1947ء کی تاریخ مقرر کی۔ اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے تین ماہ کے اندر اُنھوں نے ایک اور فیصلہ کیا کہ ایک بہت بڑی خانہ جنگی اور اُس کے نتیجے میں برپا ہونے والے ناقابلِ تصور خون خرابے سے بچنے کا واحد راستہ دو ملک بنانا ہے۔

یہ اعلان 3 جون کو کیا گیا اور اِسی تاریخ کے حوالے سے یہ '3 جون پلان' کہلایا۔ اِس کے تحت اِس اعلان کے صرف 72 دن کے عرصے میں دو نئے ملک ایک ہی دن بنائے جانے تھے۔

اگرچہ دونوں ملک ایک ہی دن (یا ایک دن کے وقفے سے) بنائے جانے تھے، لیکن........

© Daily Urdu