menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Shayari Aur Islah Aur Urooz Ke Naye Zaviye

41 0
30.10.2026

شاعری اور اصلاح اور عروض کے نئے زاویے

شاعری اور اصلاح اور عروض کے نئے زاویے حاوی اعظم کی تصنیف ہے، جس میں شعر کی ساخت، ہیئت، روانی اور تشکیل کے حوالے سے عروض کو مدنظر رکھ کر بات کی گئی ہے۔ حاوی اعظم نے عروض و بحور کو خاص اہمیت دی ہے۔ انھوں نے بڑے بڑے شعرا جیسے میرؔ، مصحفیؔ، نظیر اکبر آبادیؔ، ناسخؔ، آتشؔ، مومنؔ، شیفتہؔ، ذوقؔ، غالبؔ، یگانہؔ، شکیب جلالیؔ، فرازؔ، منیر نیازیؔ اور دیگر کئی شعرا کے اشعار کی درستی کی ہے۔

اس کتاب میں تقریباََ 450 اشعار کی اصلاح شامل ہے۔ ان اصلاحات پر غور کرنے کے بعد قاری کو خود بھی اپنے کلام میں اصلاح کی صلاحیت پیدا ہو سکتی ہے۔ کتاب کے دوسرے حصے میں عروض و بحور کو آسان طریقے سے سمجھایا گیا ہے۔ ایک عام اردو ادب کا طالب علم بھی اس مطالعے کے بعد مختصر بحروں میں کچھ نہ کچھ لکھنے کے قابل ہو سکتا ہے۔ اس مختصر مضمون میں کتاب کے دونوں حصوں پر مختصر بات کی گئی ہے۔

حاوی اعظم نے مختلف شعرا کے اشعار کی درستی کرکے ان کو حقیر دکھانے کی کوشش نہیں کی، بل کہ ان کا مقصد صرف ادبی خدمت اور اصلاح ہے۔ تا ہم بعض مقامات پر ان کے نظریات سے اختلاف ممکن ہے۔ حاوی اعظم لکھتے ہیں کہ مندرجہ ذیل اشعار میں "ہ" کا الف پڑھا جانا معیوب ہے:

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے

نہ ہم سمجھے، نہ آپ آئے کہیں سے پسینہ پونچھیے اپنی جبیں سے

ان تمام اشعار میں "ہ" الف پڑھی جاتی ہے۔ حاوی اعظم چند اور مصرعے پیش کرتے ہیں، جن میں "ہ" الف نہیں پڑھی جاتی، بل کہ ہے بیٹھ جاتی ہے، مثلا:

میرؔ صاحب زمانہ نازک ہے۔ (میرؔ)

فقیرانہ صدا کر چلے۔ (میر)

زمانہ پھر گیا، چلنے لگی ہوا الٹی (آتشؔ)

بقول حاوی اعظم، ان تینوں مثالوں میں "ہ" الف نہیں پڑھی جاتی اور یہی درست اور فصیح ہے۔

حاوی اعظم نے "ہ" کے الف پڑھے جانے کو معیوب کہا ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس........

© Daily Urdu