Yazeediat Tere Maathe Pe Jo Paseena Hai
یزیدیت ترے ماتھے پہ جو پسینہ ہے
تاریخ کے بعض واقعات وقت کی گرد میں گم نہیں ہوتے بلکہ ہر عہد کے ضمیر میں زندہ رہتے ہیں۔ کربلا بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے جس نے صدیوں کے فاصلے کو بے معنی بنا دیا ہے۔ دنیا میں بے شمار جنگیں ہوئیں، سلطنتیں قائم ہوئیں اور مٹ گئیں، حکمران آئے اور چلے گئے، لیکن کربلا کا ذکر آج بھی اسی شدت، اسی احترام اور اسی تاثیر کے ساتھ کیا جاتا ہے جس طرح چودہ سو برس پہلے کیا جاتا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کربلا زمین کے ایک ٹکڑے پر برپا ہونے والی جنگ کا نام نہیں بلکہ انسانی ضمیر کے اندر جاری رہنے والی اس کشمکش کا نام ہے جس میں حق اور باطل، انصاف اور ظلم، آزادی اور جبر آمنے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔
ہر دور میں یزیدیت نے اپنا چہرہ بدلا ہے۔ کبھی وہ تاج و تخت کی صورت میں سامنے آئی، کبھی آمریت کے روپ میں، کبھی استحصالی نظاموں کی شکل میں اور کبھی مذہب، قومیت یا قانون کے نام پر طاقت کے ناجائز استعمال کی صورت میں۔ اسی طرح حسینیت نے بھی ہر زمانے میں نئے قالب اختیار کیے ہیں۔ کہیں وہ مظلوم کی فریاد بنی، کہیں حق گوئی کی آواز، کہیں انسانی وقار کا دفاع اور کہیں ظلم کے سامنے انکار کا استعارہ۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ سمجھنا اس کے حقیقی مفہوم کو محدود کرنا ہے۔
امام حسینؑ کی جدوجہد کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ حق کی حفاظت صرف تلوار سے نہیں بلکہ کردار سے ہوتی ہے۔ کربلا میں بظاہر........
