menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mohsin Khalid Mohsin Ki Nasri Nazm Ka Idraki Mutala

34 0
19.04.2026

محسن خالد محسنؔ کی نثری نظم کا اِدراکی مطالعہ

گزشتہ چالیس برسوں میں اُردو زبان و ادب کی طاقت سے خوفزدہ طبقے نے جہاں خود اس کے علمی ذرائع پر علم دُشمن چوکیدار بٹھائے جن کی ڈیوٹی ہر بڑے تخلیقی و علمی کام کو بے معنی ثابت کر نا اور نظر انداز کرکے اس کی اثرپذیری کو معدوم کرنا تھا، وہاں فطرت نے محسن خالد محسنؔ جیسے علم دوست اور بےپناہ تخلیقی نابغوں کو لابٹھایا تاکہ تخریبی عناصر اپنے تضاد کی موجودگی کے باعث بےبس ہوتے رہیں۔

سچ جھوٹ، حق باطل اور خیر و شر کے معاملات روزِ ازل سے چلے آرہے ہیں۔ ادبی اور علمی سچائیوں کی مخالفت بھی ادب کے وجود سے ہی چلی آ رہی ہے۔ جیسے کہ اُردو ادب کے میدان میں سب سے زیادہ مخالفت آزاد غزل اور نثری نظم کی صنف کے حصے میں آئی لیکن یہ تخلیقی سچائیاں کبھی سر نِگوں نہیں کی جاسکیں۔ عہد حاضر میں ڈاکٹر ابرار عمر، ایرج مبارک اور محسن خالد محسنؔ نثری نظم کے وہ ستون ہیں جنہوں نے شاعری پر مشکل کے اس عہد میں نثری نظم کا عَلم پوری قوت اور شان سے بلند کر رکھا ہے۔

محسن خالد محسنؔ کی نثری نظم اُردو شاعری کے معاصر منظرنامے میں ایک ایسے فکری اور ادراکی زاویے کی نمائندگی کرتی ہے جہاں تخلیق محض اظہارِ احساس نہیں رہتی بلکہ شعور کی تشکیلِ نو کا عمل بن جاتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ادراکی تنقیدی تھیوری یعنی Perceptionism ان کے کلام کو سمجھنے کے لیے نہایت مؤثر تناظر فراہم کرتی ہے، کیونکہ اس نظریے کے مطابق حقیقت محض کوئی جامد خارجی شے نہیں بلکہ انسانی ادراک کے تعامل سے مسلسل تشکیل پاتی ہوئی ایک متحرک صورت ہے۔

محسن خالد محسنؔ کی نظموں میں جو کائنات سامنے آتی ہے وہ خارجی حقیقت کی نقل نہیں بلکہ داخلی شعور کی تخلیق کردہ ایک زندہ اور متحرک دُنیا ہے جس میں ہر شے اپنی معنویت قاری کے ادراک کے ذریعے حاصل کرتی ہے۔ "دستورِ دُنیا" اس حوالے سے ایک بنیادی نظم ہے جس میں شاعر نے انسانی احساس کی باہمی ترسیل کو نہایت لطیف انداز میں پیش کیا ہے۔ جب وہ کہتا ہے کہ "دُکھ دوسرے دُکھ کو آواز دیتا ہے" تو یہ محض ایک جذباتی بیان نہیں بلکہ ادراکی سطح پر ایک گہرا مقدمہ ہے کہ انسانی شعور ایک دوسرے سے کٹا ہوا نہیں بلکہ ایک باطنی ربط کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔

یہاں درد ایک ذاتی تجربہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ادراک بن جاتا ہے جو ایک وجود سے دوسرے وجود میں منتقل ہو کر ایک مشترکہ شعوری فضا قائم کرتا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں Perceptionism یہ واضح کرتا ہے کہ ادراک کی دُنیا میں "میں" اور "تم" کی حدیں تحلیل ہو جاتی ہیں اور ایک مشترکہ انسانی شعور تشکیل پاتا ہے۔ اسی........

© Daily Urdu