Afghan Taliban, Tamam Shud
افغان طالبان، تمام شْد
افغانستان کی حالیہ صورتحال ایک بار پھر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے اور اس بار مسئلہ صرف اقتدار کا نہیں بلکہ انسانیت، ریاستی شعور اور عالمی ذمہ داری کا ہے۔ 10 مارچ 2026ء کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے افغان طالبان کے بائیس اعلیٰ رہنماؤں کو بلیک لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ محض ایک سفارتی اقدام نہیں بلکہ ایک واضح عالمی اعلان ہے۔
یہ وہی فیصلہ ہے جس میں طالبان کے وزیراعظم محمد حسن اخوند، نائب وزیراعظم ملا عبدالغنی برادر، وزیرداخلہ سراج الدین حقانی اور وزیرخارجہ امیر خان متقی جیسے کلیدی کرداروں پر سفری پابندیوں، اثاثہ جات کو منجمد کرنے اور دیگر کی پابندیوں کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی پریس ریلیز میں ان رہنماؤں کے پاسپورٹ نمبرز اور کابل میں ان کے موجودہ پتوں تک کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ عالمی برادری ان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ جب یہ کلیدی کردار عالمی سطح پر دہشت گردی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے الزامات کے تحت نشان زد ہو جائیں تو یہ محض افراد کا نہیں بلکہ ایک پورے نظام کا احتساب بن جاتا ہے۔
طالبان کی سب سے بڑی غلطی ان کا وہ نظریاتی تعصب ہے جو وقت، تاریخ اور انسانی ارتقا کی حقیقتوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ فروری 2026ء میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹ کے مطابق، طالبان نے خواتین کو گھروں میں قید کرنے، تعلیم پر پابندیاں لگانے اور اقلیتوں کو سماجی و معاشی زندگی سے بے دخل کرنے کی جو پالیسیاں اپنائی ہیں، انہوں نے دنیا کے ہر مہذب معاشرے کو ان کے خلاف کھڑا کر دیا ہے۔
مارچ 2026ء میں ہی افغان میڈیا آؤٹ لیٹس کی رپورٹس کے مطابق، طالبان نے ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن کی سرگرمیاں معطل کر دیں........
