menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gwadar Ki Diary, Hanglaj Ke Pahar Aur Nani Mandir

27 0
20.10.2026

گوادر کی ڈائری، ہنگلاج کے پہاڑ اور نانی مندر

گوادر میں ایک سال قیام کے دوران اکثر نانی مندر کا تذکرہ سنا جو ہنگلاج کے پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ یہ مندر انتہائی قدیم ہے اور دنیا بھر کے ہندوؤں کی ایک اہم عبادت گاہ ہے۔ ہر سال میں اپریل میں یہاں ایک میلہ منعقد کیا جاتا ہے جس میں دنیا بھر کے ہندو شریک ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے ضلعے لسبیلا کے پہاڑی سلسلوں میں واقع نانی مندر اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ یہاں دریائے ہنگول یا ہنگول ندی پر واپڈا نے ایک ڈیم بنانے کا فیصلہ بھی کر رکھا ہے جس کی وجہ سے مقامی ہندوؤں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ بھارت میں موجود چہار دام یاترا کی بھی وہ اہمیت نہیں ہے جو ہنگلاج یا ترا کی ہے۔ یہاں موجود گنیش اور کالی ماتا کے مندر کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ جبکہ کئی ایک چھوٹے چھوٹے مندر یہاں موجود ہیں۔ یہاں ہندو اپنے مذہبی جوش و جذبے کی تسکین کے لیے آتے ہیں اور مسلمان یہاں سیاحت کی غرض سے آتے ہیں۔

2014 میں جب سردیوں کی چھٹیوں کا آغاز ہوا تو میرے شوہر نے میس کے انچارج رشید سے بات کی کہ ہم کراچی واپس بس کے ذریعے نہیں جائیں گے بلکہ اس کی ہائی روف میں سفر کریں گے۔ جو خرچہ آئے گا وہ تمام مسافر مل کر برداشت کر لیں گے۔ ہمارے پاس سامان زیادہ تھا مگر بلوچستان گھومنے کی خواہش بھی تھی۔ بس یہ ہی سوچ کر ہم نے ہائی روف سے سفر کا آغاز کرنے کی حامی بھر لی۔ ہائی روف کے مسافروں میں، میرے شوہر عباس، میری بیٹی ارفع عباس، جی ڈی اے اسکول گوادر کی ایک لیکچرار جویریہ صابر، اس کی والدہ ساجدہ آنٹی اور میس انچارج رشید شامل تھے۔ میں نے جی ڈی اے کی ایک اور لیکچرار کو بھی پیش کش کی تھی کہ وہ بھی ہمارے ساتھ سفر........

© Daily Urdu