menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Digital Taqseem e Arzi

17 0
previous day

گاؤں کی شام اتر رہی تھی۔ کھیتوں سے لوٹتے کسانوں کے قدموں کے ساتھ مٹی کی خوشبو بھی گلیوں میں پھیل رہی تھی۔ چودھری رحمت کے صحن میں آج معمول سے زیادہ لوگ جمع تھے۔ سامنے پرانی لکڑی کی میز پر ایک بوسیدہ سا رجسٹر کھلا تھا، جس کے زرد صفحات پر سیاہی سے کھینچی گئی لکیریں کئی نسلوں کی ملکیت کی کہانی سنا رہی تھیں۔ رحمت کے تین بیٹے، دو بیٹیاں اور مرحوم بھائی کے وارث خاموش بیٹھے تھے۔ سب جانتے تھے کہ زمین تقسیم ہونی ہے، مگر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ زمین کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم۔

پٹواری نے رجسٹر پر انگلی رکھتے ہوئے کہا، "یہ حصہ بڑے بیٹے کا ہے، یہ چھوٹے کا اور یہ مرحوم بھائی کے بچوں کا"۔

رحمت کے بڑے بیٹے نے کاغذ کو غور سے دیکھا اور دھیرے سے پوچھا، "لیکن ابا کی زمین تو ایک ہی تھی، یہ اتنے حصوں میں کیسے بٹ گئی؟"

صحن میں خاموشی چھا گئی۔ کسی کے پاس اس سوال کا آسان جواب نہیں تھا۔ زمین ایک تھی، مگر کھاتے کئی تھے، حصے سب کے تھے، مگر حدود کسی کو پوری طرح معلوم نہ تھیں۔ ایک بھائی نے دوسرے کی طرف دیکھا، دوسرے نے تیسرے کی طرف۔ پھر بات زمین سے نکل کر راستے، پانی اور قبضے تک جا پہنچی۔

یہ منظر کسی ایک گاؤں، ایک خاندان یا ایک گھر کی کہانی نہیں۔ پاکستان کے بے شمار دیہی خاندانوں میں زمین کی وراثتی تقسیم کے ساتھ ایسی ہی صورتِ حال پیدا ہوتی رہی ہے۔ ایک نسل کی ملکیت اگلی نسل میں تقسیم ہوتی ہے، پھر وہی حصے مزید تقسیم ہوتے ہیں، کھسرہ نمبر بڑھتے جاتے ہیں، شراکت داروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور زمین کے ساتھ ساتھ ملکیتی پیچیدگیاں بھی نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہیں۔

یہیں سے ہماری بحث محض ایک خاندانی بٹوارے کی کہانی نہیں رہتی بلکہ زرعی اصلاحات، ملکیتی انصاف اور زمین کے جدید انتظام کا قومی سوال بن جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کسی وارث کا حصہ کتنا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ اس حصے کو اس طرح کیسے متعین کیا جائے کہ وارث کا قانونی حق بھی محفوظ رہے، زمین مزید غیر ضروری طور پر نہ بکھرے، راستہ اور آب پاشی برقرار رہے اور زرعی پیداوار بھی متاثر نہ ہو۔

یہی وہ مقام ہے جہاں روایتی کھاتہ اور ونڈا جدید دور کے ایک نئے تصور، یعنی ڈیجیٹل تقسیمِ اراضی سے جڑتے ہیں۔

اگر کل کا پٹواری زرد صفحات پر لکیروں کے ذریعے زمین کی حدود متعین کرتا تھا تو آج جغرافیائی معلوماتی نظام (GIS)، ڈیجیٹل نقشہ سازی، جدید سروے اور کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ اسی زمین کو ایک نئی زبان میں شناخت کر سکتے ہیں۔ اگر کل یہ سوال تھا کہ "کس کا کتنا حصہ ہے؟" تو آج سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ "کس کا حصہ کہاں ہے، اس کی حقیقی قدر کیا ہے، اس تک راستہ کیسے پہنچتا ہے اور تقسیم کے بعد وہ زمین کتنی قابلِ کاشت اور پیداواری رہے گی؟"

چنانچہ ڈیجیٹل تقسیمِ اراضی محض کمپیوٹر پر زمین کا نقشہ بنانے کا نام نہیں، یہ دراصل ایک ایسے جدید زرعی نظم کی تشکیل کا تصور ہے جس میں حقِ ملکیت، جغرافیائی حدود، وراثتی حصے، آب پاشی، راستے، زمین کی قدر اور زرعی پیداوار، سب کو ایک مربوط نظام میں دیکھا جائے۔

اور شاید اسی لیے آج پاکستان کی زرعی اصلاحات کے سامنے سب سے اہم سوالوں میں سے ایک یہ بھی ہے: کیا ہم آنے والی نسلوں کو زمین کا حق صرف کاغذ پر دیں گے، یا انہیں ایسی زمین بھی دیں گے جو واضح حدود، محفوظ ملکیت اور بہتر زرعی مستقبل کے ساتھ ان کے ہاتھ میں پہنچے؟

یہ سوال ہمیں روایتی ونڈے سے آگے، ڈیجیٹل تقسیمِ اراضی کی طرف لے جاتا ہے۔

پاکستان کی زرعی معیشت کا بحران صرف پانی، بیج، کھاد، بجلی یا زرعی اجناس کی قیمتوں کا بحران نہیں، اس بحران کی ایک گہری مگر نسبتاً کم زیرِ بحث جہت زمین کی ملکیتی ساخت اور تقسیمِ اراضی کا فرسودہ نظام بھی ہے۔ ہماری دیہی زندگی میں "کھاتہ"، "کھتونی"، "کھسرہ"، "انتقال" اور "ونڈا" محض ریونیو اصطلاحات نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کے معاشی مستقبل، خاندانی تعلقات، وراثتی حقوق اور روزگار سے جڑے ہوئے تصورات ہیں۔ زمین ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی ہے، مگر اس انتقال کے ساتھ اکثر ملکیت زیادہ منظم ہونے کے بجائے مزید منتشر ہو جاتی ہے۔ ایک کھاتہ کئی وارثوں میں تقسیم ہوتا ہے، ہر وارث کا حصہ مزید چھوٹے حصوں میں بٹتا ہے، مختلف کھسرہ نمبرز میں شراکت پیدا ہوتی ہے اور یوں ایک ایسا پیچیدہ ملکیتی ڈھانچہ وجود میں آتا ہے جسے سمجھنا، چلانا اور بالآخر تقسیم کرنا خود ایک مستقل مسئلہ بن جاتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی زرعی اصلاحات کو ایک نئے سوال کا سامنا ہے: کیا ہم اکیسویں صدی کی زرعی معیشت کو بیسویں صدی کے کاغذی ونڈے کے ذریعے چلا سکتے ہیں؟

پنجاب میں مشترکہ زمین کی تقسیم کے لیے قانونی راستہ موجود ہے۔ پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت شریک مالک اپنے حصے کی تقسیم کے لیے درخواست دے سکتا ہے اور قانون نے تقسیم کے عمل، نقشہ سازی اور متعلقہ ریونیو کارروائی کے لیے باقاعدہ طریقۂ کار بھی وضع کیا ہے۔ لیکن قانون کا موجود ہونا اور اس قانون کے تحت تیز، شفاف اور مؤثر تقسیم کا ہونا دو مختلف معاملات ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ مشترکہ کھاتوں کی تقسیم کئی مرتبہ طویل دفتری کارروائی، باہمی اختلافات، حدود کے تعین، ریکارڈ کی پیچیدگی اور بعض اوقات عدالتی تنازعات میں الجھ جاتی ہے۔ یوں جس تقسیم کا مقصد شریکوں کے درمیان تنازع ختم کرنا ہوتا ہے، وہ خود ایک نئے تنازع کا نقطۂ آغاز بن جاتی ہے۔

یہ مسئلہ صرف انتظامی نہیں، زرعی پیداوار کا مسئلہ بھی ہے۔

دنیا بھر میں زرعی پالیسی کے ماہرین نے زمین کے مسلسل بکھراؤ، جسے عموماً land fragmentation کہا جاتا ہے، کو زرعی کارکردگی کے لیے ایک اہم چیلنج سمجھا ہے۔ وراثتی تقسیم کا بنیادی مقصد انصاف ہے: والد کی زمین اولاد میں منصفانہ تقسیم ہو۔ لیکن اگر یہی عمل ہر نسل میں زمین کو اتنے چھوٹے اور بکھرے ہوئے قطعات میں تبدیل کر دے کہ مشینی کاشت، آب پاشی، جدید ٹیکنالوجی اور تجارتی پیداوار مشکل ہو جائے تو سوال........

© Daily Urdu