menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ana, Waqar Aur Taluqat Ki Shikast

20 0
29.10.2026

انا، وقار اور تعلقات کی شکست

اس روز اس نے ایک ایسا فیصلہ کیا جسے وہ اپنی زندگی کا سب سے باوقار فیصلہ سمجھ رہا تھا۔ کئی برسوں سے قائم تعلق میں ایک معمولی سی بات پر اختلاف ہوا تھا۔ نہ کوئی بڑا الزام تھا، نہ کسی سنگین خیانت کا انکشاف، نہ ہی ایسا حادثہ پیش آیا تھا جس کے بعد واپسی کا ہر راستہ بند ہو جاتا، بس ایک جملہ تھا جو توقع کے مطابق ادا نہیں ہوا، ایک رویہ تھا جسے اس نے اپنی بے قدری سمجھ لیا اور ایک خاموشی تھی جس نے اس کے اندر بہت سے سوالات کو جنم دے دیا۔ اس نے دل ہی دل میں طے کر لیا کہ اب پہل نہیں کرے گا۔ اگر تعلق میں خلوص ہے تو دوسرا شخص خود آئے گا، اپنی غلطی تسلیم کرے گا اور اس کی اہمیت کا اعتراف کرے گا۔

دوسری طرف دوسرا شخص بھی اسی فیصلے پر قائم تھا۔ وہ بھی یہی سمجھتا تھا کہ ہمیشہ اسی نے تعلق نبھانے کی کوشش کی ہے، اب اگر کسی کو اس رشتے کی قدر ہے تو اسے آگے بڑھنا چاہیے۔ دن گزرتے گئے، پھر ہفتے مہینوں میں ڈھلنے لگے۔ دونوں کے پاس اپنی اپنی خاموشی کے حق میں دلائل تھے، اپنی اپنی خودداری کے جواز تھے اور اپنے اپنے دکھوں کی ایک طویل داستان تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ دونوں ایک دوسرے کو یاد کرتے تھے، دونوں کو تعلق کے خاتمے کا دکھ تھا، دونوں کے دل میں ماضی کی بے شمار اچھی یادیں محفوظ تھیں، لیکن دونوں میں سے کوئی ایک قدم آگے بڑھانے پر آمادہ نہیں تھا۔ پھر ایک روز مشترکہ جاننے والے سے خبر ملی کہ ان میں سے ایک شخص شدید مشکل سے گزر رہا ہے۔

دوسرے نے بے اختیار فون اٹھایا، نمبر تلاش کیا، انگلی رابطے کے نشان پر ٹھہر گئی، مگر اگلے ہی لمحے ایک خیال نے اسے روک دیا: اگر اس نے میری بات کا مناسب جواب نہ دیا تو؟ اگر اس نے میری پہل کو میری کمزوری سمجھ لیا تو؟ اس نے فون واپس رکھ دیا۔ اس لمحے ایک تعلق محض فاصلے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس خوف کی وجہ سے شکست کھا گیا تھا کہ کہیں اپنی ذات کی برتری کا تصور مجروح نہ ہو جائے۔ سوال یہ نہیں تھا کہ ان دونوں میں سے کون زیادہ باوقار تھا، اصل سوال یہ تھا کہ جب دونوں اپنی اپنی جگہ سرخرو ہونے پر مصر تھے تو پھر اس تعلق کی شکست کا ذمہ دار کون تھا؟

انسانی زندگی میں بعض المیے ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی واضح مجرم دکھائی نہیں دیتا، مگر ان کے نتائج دونوں فریقوں کو عمر بھر اپنی گرفت میں رکھ سکتے ہیں۔ تعلقات کی شکست بھی اکثر اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔ ہم عموماً رشتوں کے خاتمے کی وجوہ تلاش کرتے ہوئے بے وفائی، بدگمانی، مفاد پرستی، عدم توجہی اور اختلافات کا ذکر کرتے ہیں، لیکن ان تمام عوامل کے پس منظر میں ایک ایسی نفسیاتی کشمکش بھی کام کر رہی ہوتی ہے جسے انسان اکثر پہچاننے سے قاصر رہتا ہے۔ یہ کشمکش اپنی ذات کی اہمیت، اپنی عزت کے تصور اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے گرد گھومتی ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اسے اہم سمجھا جائے، اس کی بات سنی جائے، اس کے جذبات کی قدر ہو اور اس کے وجود کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ یہ خواہش اپنی جگہ فطری ہے، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی اہمیت کے اعتراف کو دوسرے کی اطاعت سے مشروط کر دیتا ہے، اپنی عزت کو ہر اختلاف سے محفوظ رکھنا چاہتا ہے اور تعلق کی کامیابی کو اپنی شرائط کی تکمیل سے ناپنے لگتا ہے۔ یوں محبت، رفاقت اور باہمی اعتماد کا رشتہ غیر محسوس طور پر ایک ایسی کشمکش میں تبدیل ہو جاتا ہے جس میں دونوں فریق تعلق بچانے کے بجائے اپنی اپنی حیثیت بچانے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

اس صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے انا، وقار اور منفعت کے درمیان بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ وقار انسان کو اپنی قدر و منزلت کا شعور عطا کرتا ہے، اسے اپنی حدود متعین کرنے اور تحقیر کے سامنے مزاحمت کرنے کا حوصلہ دیتا ہے، جب کہ انا بعض اوقات اسی شعور کو اپنی برتری منوانے کی ضد میں تبدیل کر دیتی ہے۔ وقار کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی عزت محفوظ رکھے، مگر انا کا مطالبہ یہ ہو سکتا ہے کہ دوسرے کو بھی اپنی برتری تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے۔ خودداری انسان کو بے جا محتاجی سے بچاتی ہے، لیکن جب یہی خودداری ہر قسم کے رجوع، وضاحت اور معذرت کو کمزوری قرار دینے لگے تو تعلقات کے لیے ایک ناقابلِ عبور دیوار بن جاتی ہے۔ اسی طرح منفعت انسانی زندگی کا ناگزیر حصہ ہے، کیونکہ معاشرتی روابط میں تعاون، ضرورت اور باہمی فائدے کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، لیکن جب کسی شخص کی قدر کا پیمانہ صرف اس کی افادیت رہ جائے تو تعلق اپنی اخلاقی بنیاد کھونے لگتا ہے۔ اس صورت میں انسان دوسرے انسان سے نہیں، اس کے عہدے، اثر و رسوخ، دولت، سفارش یا کسی متوقع فائدے سے وابستہ ہوتا ہے۔ فائدہ باقی رہے تو قربت قائم رہتی ہے اور فائدے کا امکان ختم ہوتے ہی خلوص کے دعوے بھی کمزور پڑنے لگتے ہیں۔

ماہرِ عمرانیات ایرونگ گوفمین نے اپنے معروف مقالے On Face-Work: An Analysis of Ritual Elements in Social Interaction میں انسانی تعامل کے اس پہلو کا مطالعہ کیا ہے کہ افراد سماجی روابط میں اپنی عزت، شناخت اور دوسروں کے سامنے اپنی شبیہ کو محفوظ رکھنے کے لیے کس طرح مخصوص رویے اختیار کرتے ہیں۔ گوفمین کے تصور کی روشنی میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ انسان بعض اوقات کسی اختلاف کو اس کے حقیقی مفہوم میں دیکھنے کے بجائے اپنی سماجی حیثیت کے لیے خطرہ سمجھنے لگتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اگر اس نے اپنی غلطی تسلیم کر لی........

© Daily Urdu