Tolu e Nao Ka Morcha
قیامِ پاکستان کی سحرِ خوں رنگ سے لے کر اکیسویں صدی کی تیسری دہائی تک، اس مملکتِ خداداد کے تعاقب میں رہنے والے حادثات، دل سوز سانحات اور بقا کے چیلنجز کی تاریخ اتنی طویل ہے کہ تاریخ داں اکثر حیرت کے سمندر میں غرق نظر آتے ہیں۔ دنیا کے سیاسی منظرنامے پر ایسے کئی جغرافیے ابھرے اور مٹ گئے، مگر یہ خطہ زمین اپنے زخموں کو تمغوں میں بدلنے کا ہنر جانتا ہے۔
آج جب دنیا مئی 2025ء کے اس چار گھنٹے کے ہولناک عسکری معرکے کو یاد کرتی ہے، جسے روایتی اور سامراجی پشت پناہی کی حامل دس گنا بڑی دفاعی قوت نے محض ایک ریہرسل سمجھ کر چھیڑا تھا، تو اس کے تادیبی اور تزویراتی (اسٹرٹیجک) نتائج نے نہ صرف ایشیائی چودھراہٹ کا خمار اتار دیا، بلکہ عالمی طاقتوں کے دفاعی نظریات کو ازسرنو مرتب کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس ایک فیصلہ کن جھٹکے نے جہاں ہندو توا کے فکری مغالطوں پر سکتہ طاری کیا، وہاں واشنگٹن کے فیصلہ ساز ایوانوں کو بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا کہ جنوبی ایشیا کی تزویراتی لکیریں پاکستان کی مرضی کے بغیر نہیں کھینچی جا سکتیں۔ معاشی ڈیفالٹ کے دھانے پر کھڑے ایک ملک کا یوں اچانک دفاعی اور سفارتی........
