menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tawazun, Tadbeer Aur Bijli Ka Nizam

36 0
09.08.2026

توازن، تدبیر اور بجلی کا نظام

تموز کے جھلسا دینے والے ایام میں، جب وادیِ سندھ کی زمین تپتی ہوئی کڑھائی کی مانند دہکتی ہے اور ہوائیں آتشِ سوزاں بن کر جاں و مال کا امتحان لیتی ہیں، تو قومی برقی شبکہ (گرڈ) ایک ایسی مضمحل اور نیم جاں ہستی کی تصویر پیش کرتا ہے جس کے اعصابِ کشیدہ زوال و اختلال کی آخری حدود کو چھو رہے ہوں۔ ایسے وقت میں جب گھروں اور ہسپتالوں کی سانسیں برقی رو کی بحالی سے مشروط ہوں، اربابِ اقتدار کی جانب سے بٹ کوائن کی معدن کاری اور مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی نذر دو ہزار میگاواٹ کی کثیر توانائی کرنے کا اعلان ایک نئے فکری محاذ کا فتح باب بنتا ہے۔ ہر سو سے یہ استفہام بلند ہو رہا ہے کہ کیا یہ معاشی اور تکنیکی بوجھ اٹھانے کی استطاعت ہماری مملکت میں موجود ہے؟ لیکن حقیقت شناسی کا تقاضا ہے کہ ہم تسلیم کریں کہ یہ سوال بظاہر کتنا ہی سنگین کیوں نہ معلوم ہو، اصل قضیے کی کما حقہ، ترجمانی نہیں کرتا۔ مسئلہ محض یہ نہیں کہ ہمارے خزانہِ توانائی میں مجموعی طور پر کتنے میگاواٹ موجود ہیں، بلکہ اصل فکری الجھن یہ ہے کہ ہم نے اس نظام میں "نظمِ میزان" کو کس حد تک ملحوظ رکھا ہے۔

قرآنِ حکیم نے کائنات کی خلقت کا بنیادی راز یہی بیان فرمایا ہے کہ وَوَضَعَ الُمِيُزَانَ یعنی ہر شے کو ایک مقررہ وزن، توازن اور اندازے کے ساتھ قائم کیا گیا ہے۔ جب انسان یا ریاستیں اس نظامِ توازن سے انحراف کرتی ہیں تو عدلِ عمرانی درہم برہم ہو جاتا ہے۔ تاریخِ اندلس کا وہ الم ناک باب ہمارے سامنے ہے جب سقوطِ غرناطہ سے قبل والیانِ حکومت نے فاصلاتی ابلاغ کے طریقہ کار کی اصلاح اور ترسیلِ معلومات کی بنیادی حکمتِ عملی بدلنے کے بجائے صرف تیز رفتار قاصدوں اور اسباق کی تعداد بڑھانے پر اپنی تمام........

© Daily Urdu