Sehat e Madar o Tifl Ka Tahafuz
صحتِ مادر و طفل کا تحفظ
صحت عامہ کے باب میں بعض اقدامات محض انتظامی سرگرمیاں نہیں ہوتے بلکہ وہ سماجی شعور کی تشکیل اور انسانی وقار کے تحفظ کی سمت ایک سنجیدہ پیش رفت کا درجہ رکھتے ہیں۔ صنعتی علاقے سائٹ کراچی میں قائم ادارہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال، جو سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن کے زیرِ انتظام خدمات انجام دے رہا ہے، حالیہ دنوں ایک ایسے ہی فکری و تربیتی اجتماع کا مرکز بنا جہاں ایچ آئی وی کے حوالے سے آگاہی اور پیشہ ورانہ استعداد کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی سنجیدہ کاوش کی گئی۔ یہ محض ایک سیمینار نہ تھا بلکہ اس امر کا اعلان تھا کہ صحت کے میدان میں علم، احتیاط اور پیش بندی کو بنیادی ستون بنایا جا رہا ہے۔
ایچ آئی وی کا مسئلہ ہمارے معاشرے میں اب بھی نیم پوشیدہ خوف اور سماجی بدگمانی کے پردوں میں لپٹا ہوا ہے۔ بسا اوقات معلومات کی کمی، توہمات اور معاشرتی دباؤ اس مرض کو طبی چیلنج سے بڑھا کر سماجی المیہ بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں کسی صنعتی خطے کے اسپتال میں، جہاں محنت کش طبقہ اپنی روزی روٹی کے لیے سرگرم رہتا ہے، اس موضوع پر علمی نشست کا انعقاد دراصل صحتِ عامہ کی ترجیحات کی درست سمت متعین کرنے کے مترادف ہے۔ اس اقدام سے یہ پیغام واضح ہوا کہ بیماری کو راز نہیں، علم اور احتیاط کے ذریعے قابو کیا جاتا ہے۔
اس تربیتی سیشن کی قیادت میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر غیاث الدین نے سنبھالی، جنہوں نے منصب سنبھالتے ہی پیشہ ورانہ تربیت کو ادارہ جاتی ثقافت کا حصہ بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ ان کی فکر کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ اسپتال محض علاج گاہ نہیں بلکہ علم کی آماجگاہ بھی ہونا چاہیے۔ جدید طبی رہنما اصولوں کی روشنی میں........
