Paseene Ki Hurmat Aur Muashre Ka Zameer
پسینے کی حرمت اور معاشرے کا ضمیر
یکم مئی محض ایک تاریخ نہیں، انسانی محنت کے احترام کا عالمی استعارہ ہے۔ یہ وہ دن ہے جب دنیا صنعتی ترقی کے پس منظر میں پسے ہوئے انسان کو یاد کرتی ہے، اُس مزدور کو، جس کے ہاتھوں کی سختی تہذیبوں کی نرمی میں ڈھلتی ہے، جس کے پسینے سے معیشت کی نبض چلتی ہے اور جس کی خاموش مشقت سے شہروں کی روشنیاں قائم رہتی ہیں۔ شکاگو کے محنت کشوں کی قربانیوں نے ایک صدی قبل دنیا کو یہ احساس دلایا تھا کہ سرمایہ اگر طاقت ہے تو محنت اُس طاقت کی روح ہے۔ مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ دنیا نے مزدور کے نام پر تقریبات تو بڑھا دیں، لیکن اُس کے مسائل کے ازالے کے لیے حقیقی سنجیدگی کم ہوتی چلی گئی۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشروں میں تو یہ دن اکثر ایک رسمی روایت بن کر رہ گیا ہے، ایسی روایت جس میں مزدور کا ذکر تو بہت ہوتا ہے مگر اُس کی زندگی کا کرب کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
ہر سال یکم مئی کی صبح سرکاری تعطیل، سیمینارز، بینرز، ریلیوں اور بلند آہنگ نعروں کے ساتھ طلوع ہوتی ہے۔ دانشور مزدور کے حقوق پر خطابت کرتے ہیں، ادارے بیانات جاری کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر ہمدردی کے جملے گردش کرتے ہیں، لیکن ان تمام سرگرمیوں کے دوران وہ محنت کش کہاں ہوتا ہے جس کے نام پر یہ سب اہتمام کیا جا رہا ہوتا ہے؟ وہ شاید کسی فیکٹری کے شور میں مشین کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، کسی بھٹے پر دہکتی آگ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، یا کسی چوک میں مزدوری کی امید لیے سورج کی تمازت سہہ رہا ہوتا ہے۔ گویا جن ہاتھوں کے احترام کا دن منایا جا رہا ہوتا ہے، وہی ہاتھ اس دن بھی مشقت کی زنجیر سے آزاد نہیں ہو........
