Naye Great Game Ki Bisat Par Petro Dollar Ki Bazgasht
نئے گریٹ گیم کی بساط پر پیٹرو ڈالر کی بازگشت
اگر جیو پولیٹکس کی پیچیدہ بساط کو تاریخ کے کسی پراسرار قہوہ خانے سے تشبیہ دی جائے، تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہاں بیٹھے پردہ نشین کھلاڑی شطرنج کے مہروں کی بجائے عالمی معیشت کی شہ رگوں سے کھیلتے ہیں۔ حالیہ چند ہفتوں کے خونی ڈرامے کو محض ایک علاقائی تصادم، سرحدوں کی کھینچ تان یا فرقہ وارانہ آویزش کا نام دینا دراصل اس وسیع تر معاشی المیے سے منہ موڑنا ہے جو دبے پاؤں عالمی مالیاتی منظرنامے پر دستک دے رہا ہے۔ اگر ہم گذشتہ چھ ہفتوں کی بھیانک خونریزی اور سفارتی شاطرانہ چالوں کی نادیدہ تہوں کو کریدیں، تو پسِ پردہ ایک ایسا خونخوار ڈریگن نظر آتا ہے جس کا ہدف مشرقِ وسطیٰ کے صحرا نہیں، بلکہ بیجنگ اور ماسکو کی ابھرتی ہوئی معاشی تحویل ہے۔
نصف صدی سے امریکی بالادستی کے شاہی تاج میں جڑا سب سے قیمتی نگینہ یعنی پیٹرو ڈالر، آج شدید ہچکولے کھا رہا ہے۔ برکس کی بڑھتی ہوئی تحرک، چین کی پیٹرو یوآن کی ترویج اور روس کی متبادل........
