menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mashriq Wasti Nazriati Kashmakash, Taaqat Ki Siyasat Aur Naya Astritjk Tawazun

18 17
15.01.2026

مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی بساط پر طاقت، نظریے اور مفاد کی کشمکش کبھی محض سفارتی بیانیوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ عالمی طاقتوں کے اعصاب، مالیاتی نظام اور بین الاقوامی تعلقات کی نزاکت کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں خطے کے دو مؤثر اسلامی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی فکری و اسٹریٹجک خلیج نے اسی حقیقت کو ایک نئے اور نہایت پیچیدہ انداز میں اُجاگر کیا ہے۔ ایک جانب وہ ریاست کھڑی ہے جس نے علاقائی تنازعات کو ٹھنڈا کرنے، کشیدگی کو قابو میں رکھنے اور اپنی داخلی و خارجی حکمتِ عملی کو معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کی توسیع سے جوڑنے کی سعی کی ہے۔ دوسری طرف وہ ملک ہے جو نظریاتی محرکات، وسیع جغرافیائی اثرانداز قوت اور پراکسی نیٹ ورکس کی عملی سیاست کے ذریعے ایک ایسے کردار کے طور پر ابھر رہا ہے جس کے عزائم کو ماہرین سلطنتی نوعیت کا رجحان قرار دیتے ہیں۔ یہی متضاد جہتیں خطے کی نئی طاقتاتی ترتیب کو نہ صرف بکھیر رہی ہیں بلکہ عالمی نظام کے توازن پر بھی گہرے سوالات کھڑے کر رہی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا اور معروف تحقیقی اداروں کی رپورٹس کے مطابق یمن، سوڈان اور بحیرۂ احمر کے گرد ابھرنے والے تنازعات محض مقامی بحران نہیں رہے، بلکہ یہ بیرونی سرمایہ کاری، عالمی تجارت، توانائی کی رسد اور حساس سفارتی مذاکرات تک اپنی بازگشت رکھتے ہیں۔ معاشی ماہرین متنبہ کرتے ہیں کہ جب دو ایسے ممالک جن کا اثرورسوخ خلیج سے افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے بین الاقوامی معیشت تک پھیلا ہوا ہو اپنی پالیسی ترجیحات کے باب میں ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے ہو جائیں، تو نتیجتاً عالمی منڈیوں........

© Daily Urdu