Haqiqi Khushi
یہ سوال کہ "حقیقی خوشی آخر کہاں بسی ہے؟" انسان کے لاشعور میں صدیوں سے دستک دیتا آیا ہے۔ تہذیبیں بدلی ہیں، نظریات نے رنگ بدلا ہے، معاشی نظاموں نے انسان کو نئے خواب دکھائے ہیں، مگر دل کی اس پیاس کا جواب اب تک بیشتر لوگ دولت، طاقت اور شہرت کے سراب میں ڈھونڈتے رہے ہیں۔ بظاہر یہی تین عناصر کامیابی کی معیاری تعریف بنا دیے گئے بلند بنک بیلنس، سماجی حیثیت اور دنیاوی فتوحات لیکن وقت نے بارہا ثابت کیا کہ سب کچھ پا لینے کے بعد بھی انسان کے اندر کہیں کوئی خلا اداس بیٹھا رہتا ہے۔ اسی داخلی اذیت اور انسانی نفسیات کے اس قدیم سوال کو سمجھنے کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی کی طویل المدتی تحقیق نے انسانی زندگی کے ایک وسیع کینوس کو چھویا اور 85 برس تک جاری رہنے والے اس مطالعے نے وہ سچ آشکار کیا جس نے کامیابی کے رائج تصور کو متزلزل کرکے رکھ دیا۔
یہ تحقیق نہ کسی لمحاتی مشاہدے کا نتیجہ تھی، نہ چند سالہ اعداد و شمار کی بنیاد پر اخذ کردہ رائے، بلکہ یہ انسان کے پورے سفرِ زیست کو قریب سے دیکھنے کی ایک سنجیدہ سائنسی کوشش تھی۔ اس طویل مشاہدے میں مختلف طبقوں، مختلف ذہنی و معاشی پس منظر رکھنے والے افراد کو دہائیوں تک دیکھا گیا ان کے حالات بدلے، روزگار اور خاندان بدلے، بعض دولت مند ہوئے، کچھ محرومیوں سے گزرے، کسی کے مقدر میں شہرت لکھی تھی، کسی کے حصے میں گمنامی مگر ایک عنصر ایسا تھا جو وقت کے ساتھ مسلسل نمایاں ہوتا رہا۔ نتیجہ حیران کن بھی تھا اور سبق آموز بھی: وہ افراد جو زندگیاں زیادہ پُرسکون، صحت مند اور طویل عرصے تک بھرپور طریقے سے گزار سکے، وہ نہ سب سے زیادہ دولت مند تھے، نہ سب سے زیادہ طاقتور یا مشہور، وہ وہ لوگ تھے جن کے انسانی تعلقات مضبوط، گرم جوش، مہربان اور بااعتماد تھے۔
ڈاکٹر رابرٹ والڈنگر، جو اس تحقیق کے حالیہ ڈائریکٹر رہے،........
