menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Entezami Taqseem Se Aeeni Takmeel Tak

27 0
17.09.2026

انتظامی تقسیم سے آئینی تکمیل تک

پاکستان اپنی قومی زندگی کے 79ویں برس میں داخل ہوچکا ہے۔ یہ محض کیلنڈر پر بڑھ جانے والا ایک عدد نہیں، بلکہ تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط اس سیاسی، آئینی اور انتظامی تجربے کا استعارہ ہے جس میں ریاست نے حکمرانی کے متعدد سانچے آزمائے، آئینی بندوبست تبدیل کیے، اقتدار کے مراکز کی تشکیلِ نو دیکھی، صوبائی و انتظامی حدود میں ردوبدل کیا اور کبھی پارلیمانی، کبھی صدارتی اور کبھی غیر معمولی سیاسی بندوبست کے ادوار سے گزری۔ مگر اس تمام تجربے کے باوجود ایک بنیادی سوال آج بھی اپنی پوری معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے: کیا پاکستان کا مسئلہ واقعی ریاستی و انتظامی ساخت کی کمزوری ہے یا اس طرزِ حکمرانی کا، جس کے ذریعے اس ساخت کو عملاً چلایا جاتا ہے؟ اگر بحران کی اصل وجہ صرف صوبوں، اضلاع یا انتظامی اکائیوں کے حجم میں پوشیدہ ہوتی تو گزشتہ کئی عشروں کے تجربات ہمیں اب تک کسی قطعی نتیجے تک پہنچا چکے ہوتے۔ تاریخ کا مطالعہ، تاہم، ایک زیادہ پیچیدہ حقیقت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ "کون سا نظام" اختیار کیا جائے، اس سے زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ "آئین کے تحت طے شدہ نظام کو کس طرح چلایا جائے؟"

پاکستان کی آئینی تاریخ اس امر کی مسلسل گواہ ہے کہ دستور مرتب کرلینا اور دستور کے مطابق ریاستی نظم کو جاری رکھنا دو الگ مراحل ہیں۔ 1954ء میں پہلی دستور ساز اسمبلی کی تحلیل نے اس کشمکش کو قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں ہی میں نمایاں کردیا تھا۔ دستور سازی کا عمل آگے بڑھ رہا تھا، لیکن 24 اکتوبر 1954ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی تحلیل کردی۔ اس اقدام کے خلاف مولوی تمیزالدین خان کی عدالتی جدوجہد نے ریاستی اختیار، پارلیمانی حاکمیت، عدالتی تعبیر اور آئینی بالادستی کے درمیان تعلق کو ایک ایسے تنازع سے دوچار کردیا جس کے اثرات پاکستان کی آئینی تاریخ میں طویل عرصے تک محسوس کیے گئے۔ یوں دستور کے وجود میں آنے سے پہلے ہی یہ سوال پیدا ہوگیا کہ ریاستی اقتدار کی حدود متعین کرنے والا اصل مرجع کون ہوگا: آئین، منتخب نمائندے یا طاقت کا حامل ادارہ؟

1956ء میں پاکستان کو پہلا باقاعدہ دستور ملا، جس نے پارلیمانی طرزِ حکومت اور وفاقی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔ قومی اسمبلی کے تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1956ء کے دستور نے پارلیمانی نظام کو اختیار کیا، لیکن یہ آئینی بندوبست بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ 7 اکتوبر 1958ء کو آئین منسوخ کردیا گیا، اسمبلیاں تحلیل ہوئیں اور مارشل لا نافذ ہوا۔ 1962ء میں صدارتی نظام متعارف ہوا اور پھر 1970ء میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخابات منعقد ہوئے۔ ان انتخابات میں مشرقی پاکستان کی عوامی لیگ نے واضح اکثریت حاصل کی، مگر اکثریتی مینڈیٹ کو اقتدار کی آئینی منتقلی کے مرحلے تک پہنچانے میں ناکامی نے ملک کو ایک ایسے بحران سے دوچار کردیا جس کا اختتام 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر ہوا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے تاریخی ریکارڈ بھی 1970ء کی اسمبلی اور بعد ازاں 1973ء کے دستور کی تشکیل کو اسی آئینی ارتقا کے تسلسل میں بیان کرتے ہیں۔

یہ تجربہ ایک نہایت بنیادی حقیقت آشکار کرتا ہے: وفاق صرف نقشے پر بنائی گئی سرحدوں کا نام نہیں۔ وفاق دراصل سیاسی اعتماد، آئینی تحفظ، وسائل میں شراکت، نمائندگی کے احساس اور اس یقین سے تشکیل پاتا ہے کہ عوام جسے اپنا مینڈیٹ دیں گے، اسے آئینی دائرے میں فیصلہ سازی کا حق حاصل ہوگا۔ جغرافیہ ریاست کو زمین فراہم کرسکتا ہے، مگر وفاق کو پائیداری سیاسی اعتماد سے ملتی ہے۔ جب کسی وفاقی وحدت کے باشندوں کو یہ احساس ہونے لگے کہ ان کی سیاسی آواز، معاشی مفاد یا عوامی مینڈیٹ ریاستی فیصلوں میں مناسب وزن نہیں رکھتا تو محض انتظامی مرکزیت وفاقی وحدت کو مضبوط نہیں کرسکتی۔

1973ء کا آئین اسی تلخ تاریخی تجربے کے بعد پیدا ہونے والا ایک اہم قومی اتفاق تھا۔ 1970ء کی اسمبلی نے دستور سازی کا عمل مکمل کیا، دستور 12 اپریل 1973ء کو منظور ہوا اور 14 اگست 1973ء کو نافذ ہوا۔ اس دستور نے پارلیمانی نظام، دو ایوانی مقننہ، وفاقی ڈھانچے، بنیادی حقوق اور صوبائی خودمختاری کے اصولوں کو ایک جامع آئینی بندوبست میں جمع کیا۔ یہ دراصل اس سوال کا ایک اجتماعی جواب تھا کہ پاکستان میں ریاستی اختیار کو کس قانونی اور سیاسی نظم کے تحت استعمال کیا جائے۔ مگر بعد کے واقعات نے یہ بھی واضح کیا کہ مضبوط آئینی متن اپنی جگہ اہم ضرور ہے، لیکن اس کی حقیقی قوت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے اور اقتدار کے مختلف مراکز آئینی حدود کو محض کتابی اصول نہیں بلکہ عملی التزام سمجھیں۔

1977ء کے بعد کا مارشل لا، 1980ء کی دہائی کا محدود سیاسی عمل، 1988ء سے 1999ء تک منتخب حکومتوں کی برطرفیوں کا سلسلہ اور 1999ء میں دوبارہ فوجی اقتدار کا قیام پاکستان کے اسی طویل ادارہ جاتی اضطراب کی مختلف صورتیں تھیں۔ ان ادوار کو صرف مختلف حکمرانوں یا سیاسی جماعتوں کی داستان سمجھنا مسئلے کو محدود کردینا ہوگا۔ یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاستی اختیار کے مختلف مراکز کے درمیان آئینی حدود،........

© Daily Urdu