menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Budget, Sifarat Kari Aur Maeeshat Ka Naya Ufaq

18 0
thursday

بجٹ، سفارتکاری اور معیشت کا نیا افق

ریاستوں کی تاریخ میں بعض اوقات ایسے غیر معمولی مواقع پیدا ہوتے ہیں جب داخلی معاشی منصوبہ بندی اور خارجی سیاسی حالات ایک دوسرے سے اس شدت کے ساتھ جڑ جاتے ہیں کہ کسی ملک کی آئندہ سمت کا تعین محض بجٹ کی دفعات یا معاشی اشاریوں سے نہیں بلکہ اس کے مجموعی تزویراتی ماحول سے ہونے لگتا ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے ہی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ایک جانب نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ قومی اقتصادی ترجیحات کا خاکہ پیش کر رہا ہے اور دوسری جانب علاقائی و بین الاقوامی سطح پر رونما ہونے والی اہم سفارتی پیش رفتیں ملکی معیشت کے لیے نئے امکانات کے دروازے کھولتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس تناظر میں بجٹ اور عالمی حالات کو الگ الگ موضوعات کے طور پر نہیں بلکہ ایک مربوط قومی منظرنامے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی بجٹ کسی بھی ریاست کا محض مالی گوشوارہ نہیں ہوتا بلکہ وہ حکومتی ترجیحات، ترقیاتی ترجیحات، سرمایہ کاری کی سمت، مالیاتی نظم و ضبط اور مستقبل کے اقتصادی وژن کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان کی اقتصادی تاریخ کا ایک نمایاں المیہ یہ رہا ہے کہ بجٹ دستاویزات میں درج کئی اہداف عملی میدان میں مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ مالی سال 2025-26ء کے اقتصادی جائزے نے بھی اس حقیقت کی عکاسی کی کہ اگرچہ معیشت استحکام کی جانب گامزن رہی، تاہم متعدد اہداف اپنی مکمل شکل میں حاصل نہ ہو سکے۔ شرحِ نمو کا ہدف محدود رہا اور قومی پیداوار کی توسیع متوقع رفتار حاصل نہ کر........

© Daily Urdu