menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kutta Kuen Mein

25 0
07.06.2026

ہمارے ملک میں نیٹ ٹیکس کی شرح نسبتا دوسرے ہمسایہ ممالک کے زیادہ ہے۔ لیکن اس کے برعکس ٹیکس وصولی کی شرح کم ہے۔ جس کی وجہ سے ہر سیاسی حکومت کو ہمیشہ معاشی مسائل کا سامنا رہا ہے اور اس کو عالمی مالیاتی ادارے کے دروازے کھٹکانے پڑتے ہیں۔ ہر سال بجٹ کے موقع پر سرسری گفت وشنید کے بعد نمبروں کو آگے پیچھے کرکے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی سے کام لیا جاتا ہے۔ یہی وجہ کہ ہم اپنے خطے کے ہمسایہ ممالک سے ترقی کی شرح میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ہماری حکومتی سیاسی نظام کا کمزور ہونا ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آج تک کوئی بھی سیاسی حکومت سوائے سیاسی نعروں کے کوئی لمبا معاشی پلان نہیں دے سکی ہے اور نہ ہی کسی آنے والی نئی حکومت نےکسی اچھی معاشی پالیسی کو تسلسل سے نوازا ہے۔ ہم کولہو کے بیل کی طرح ایک گول دائرے میں ہی سفر کئے جارہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کے ایف بی آر........

© Daily Urdu