Jise Allah Rakhe, Usay Kon Chakhe
جسے اللہ رکھے، اُسے کون چکھے
زندگی بعض اوقات ایسے موڑ دکھاتی ہے جہاں انسان کے اپنے فیصلے، اس کی تدبیریں اور اس کی سوچ سب بے معنی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ وہ سمجھتا کچھ ہے، کرتا کچھ ہے، مگر ہوتا وہی ہے جو اس کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ ہیر و رانجھا کی سرزمین پر محبت کی ایک نئی داستان نے جنم لیا۔ نگاہوں کی چُھپن چُھپائی سے ابتدا ہوئی، آہستہ آہستہ دلوں تک جا پہنچی۔ جب بات بڑھی تو خاندانوں کو بھی راضی کر لیا گیا۔ آخر جب دل مل جائیں تو قاضی کا کیا کام! دونوں کا تعلق معزز اور نامی گرامی گھرانوں سے تھا، لہٰذا رسم و رواج کی پاسداری کرتے ہوئے اس بندھن کو خوب دھوم دھام سے رچایا گیا۔ ہفتوں تک ڈھولکی کی تھاپ گونجتی رہی، خوشیوں کے گیت فضا میں رس گھولتے رہے اور پھر وہ گھڑی آئی جب نکاح کے مقدس رشتے میں بندھ کر دونوں نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔
مگر خوشیوں کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی۔ ابھی شادی کو چند ماہ ہی گزرے تھے کہ اختلافات نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ جہاں کبھی ایک دوسرے کے بغیر سانس لینا محال تھا، وہاں اب........
