menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Karachi Ki Chorangiyan, Chowk Aur Nukar

24 0
31.10.2026

کراچی کی چورنگیاں، چوک اور نکڑ

کوئی مانے نہ مانے مگر میرا بچپن یہ کہتا ہے کہ کراچی چورنگیوں کا شہر تھا۔ کتنے بس اسٹاپ ان سے منسوب تھے۔ ہر دو تین کلو میٹر کے فاصلے ہر سرسبز، ماحول دوست چورنگیاں کراچی والوں کے لئے شام کو پارک ہوا کرتی تھیں۔ والد صاحب ہر دوسرے تیسرے روز ہمیں سر شام ناظم آباد پہلی چورنگی لے جایا کرتے جہاں ہم گھنٹوں کھیلتے۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے ٹریفک کے بے لگام گھوڑے نے ان چورنگیوں کو روندھ ڈالا۔ پہلے چورنگیاں چھوٹی ہوئیں اور پھر چورنگی کراچی کی زندگی سے نکل گئیں۔ اب جو چورنگیاں بچی ہیں وہاں کراچی والوں کے لئے ماضی کی یادیں رہ گئی ہیں۔

چورنگی کے علاوہ بازاروں اور محلوں میں جہاں دو سڑکیں ایک دوسرے کو کراس کریں یا چار راستے آکر ملیں اسے چوک کہا جاتا ہے۔ چوک ہر چھوٹا سا چبوترا بنا یوں تو محلے کے بے فکرے یہاں بیٹھ جاتے ہیں۔ گلی کے کونے کو نکڑ کہا جاتا ہے۔ کچھ نکڑوں ہر دکان بھی ہوتی جہاں شام کو محلے کے بزرگ بھی آکر کھڑے ہوجایا کرتے۔ دکان والا اپنی دو ایک کرسیاں باہر ڈال دیا کرتا جس میں ایک کرسی کے چوتھے پائے کو کیلیں ٹھونک کر قابل بیٹھ بنایا جاتا جو بھی بیٹھتا اپنا وزن محفوظ حصے پر ڈالے رکھتا۔ دوسری کرسی کی حالت بھی نا گفتہ با ہوتی ایک نہ ایک کیل بیٹھنے والے کو احساس دلاتی رہتی کہ ذرا ادھر ادھر ہوئے تو ایسے چبھوں گی کہ کسی کو بتا بھی نہ پاو گے۔ اب حالت و واقعات پر گفتگو بگھاری جاتی۔

پہلے کونے والے گھر پر ذرا سنجیدہ طبع اور لئے دیئے رہنے والے نکڑ ہر کرسیاں بچھا کر بھی بیٹھا کرتے تھے۔ نکڑ تو آج بھی ہیں لیکن کچھ حالات اور کچھ اسٹیٹس کے باعث یہ نکڑ چند ایک علاقوں میں رہ گئے ہیں۔ ان تمام نکڑوں کے کردار بھی بہت دلچسپ ہوتے تھے۔۔

نکڑ والے خالو اور منوں بھائی کی درخواست

یہ ہمارے بچپن کے دن تھے۔ سکون کا زمانہ تھا لوگوں کو ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا جنون نہ تھا نہ ہی ایک دوسرے سے حسد اور کینہ تھا۔ سب اپنے........

© Daily Urdu